چاروں طرف دہشت تھی، ہر کوئی تنہائی کا شکار اور ہر قسم کے جبر کا سامنا کر رہا تھا، کوئی پرسان حال نہ تھا، سب ان سختیوں کو برداشت کرنے پر مجبور تھے۔
مصنف کی تفصیلات
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 39
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے سبکدوش ہونے والے ورلڈ بنک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بن حسین کی ملاقات
واقعہ کی تفصیل
پتہ چلا کہ سب کے سب عیسائی ہیں اور اُس نوجوان کی اطلاع پر جوابی حملہ کرنے آئے ہیں۔ اُن سے بات چیت کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے فصل کاٹنے کو تو کوئی وزن ہی نہ دیا۔ کہنے لگے کہ یہ فصلیں تو سب گاؤں والوں کی ہیں ہم بھی اس میں حصّہ دار ہیں۔ لہٰذا جہاں سے چاہیں فصل کاٹ کر لے جاسکتے ہیں۔ چونکہ تم لوگوں نے ہمارے نوجوان کو ڈرایا دھمکایا اور بھگایا ہے لہٰذا تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لیے 9 بینچز قائم کر دیے
بندوق اور فیصلہ
چنانچہ گھیرا ڈال کر بندوق بھی انہوں نے اپنے قابو میں کر لی اور سب کو گاؤں کی طرف لے کر چلتے بنے۔ گاؤں میں انہوں نے ایک جگہ سب کو ٹھہرا دیا اور اپنے پادری صاحب کو بلایا اور اُن سے کہا کہ فیصلہ کریں۔ انہوں نے فیصلہ دیا کہ بندوق تھانے میں جمع کروائی جائے گی اور نوجوان کو ڈرانے دھمکانے کا مقدمہ بھی درج کروا دیا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، بندوق انہوں نے تھانے میں جمع کروائی اور مقدّمہ کے لیے بھی تحریری درخواست دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے ہر دم تیار رہنا ضروری ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
حالات کی عکاسی
اِس سارے واقعے کے بیان کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ حالات کس قدر مخالف سمت میں رواں دواں تھے۔ کوئی پُرسان حال نہ تھا۔ ایک مزدور پیشہ کمزور عیسائی کمیونٹی ایک بڑی طاقت بن کر سامنے کھڑی تھی۔ انہوں نے چاروں طرف دہشت پھیلائی ہوئی تھی۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ مہاجرین انڈیا کے مختلف اضلاع سے جو آئے وہ ایک دوسرے سے نا آشنا تھے۔ لہٰذا ہر کوئی تنہائی کا شکار تھا اور ہر قسم کے جبر کا سامنا کر رہا تھا۔ چاہے جابر کی اپنی کوئی بھی حیثیت نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: اتحاد تنظیمات مدارس اور حکومت کا 2019 کا معاہدہ سامنے آگیا
میٹینگ اور فیصلے
چنانچہ ایسے واقعات تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہوتے رہے اور سب لوگ ان سختیوں اور زبردستیوں کو برداشت کرنے پر مجبور تھے۔ کہتے ہیں "ہر کمالے را زوالے" کے مصداق جب گاؤں میں مہاجرین کی آبادی کافی ہوگئی تو ان کی سینہ زوری کا حل نکالنے کی ضرورت محسوس کی گئی اور ایک میٹنگ طلب کر لی گئی۔ گاؤں کے چیدہ چیدہ لوگ آئے بات آگے بڑھی اور فیصلہ ہوا کہ اب چونکہ بات سر سے گزر چکی ہے لہٰذا ان لوگوں کا زرعی اراضی میں آنا جانا مکمل طور پر بند کر دیا جائے اور جو اس کی خلاف ورزی کرے اسے موقع پر سزا دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو جیل سے رہا کردیا گیا
عملدرآمد اور نتائج
چنانچہ چند کمیٹیاں بنا دی گئیں۔ جب عملدرآمد شروع ہوا تو وہ لوگ چیخے چلّائے لیکن اب حالات پلٹا کھا چکے تھے۔ لہٰذا چند روز میں وہ لوگ تنگ آگئے اور وفد لے کر آئے اور پھر آئندہ کے لیے اپنا رویہ بدلنے کی یقین دہائی کرائی۔
یہ بھی پڑھیں: سمارٹ واچ نے شوہر کے حادثے کا پیغام دیا جبکہ وہ تو ریس ٹریک پر موجود تھے: ڈیجیٹل لباس کی حفاظت کے بارے میں۔
مزدوری اور تعاون
اس طرح وہ پہلے کی طرح زرعی فارموں پر بطور مزدور کام کرنے لگ پڑے کیونکہ اُن کا لوٹا ہوا مال جلد ختم ہوگیا۔ خون پسینے کی کمائی ہوتی ہے جو سوچ سمجھ کر خرچ کی جاتی ہے اور کچھ دیر ٹھہرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی کرنسی میں ملوث بینک منیجر سمیت 4ملزمان گرفتار، کروڑوں مالیت کی رقم برآمد
زرعی کاموں کا تجربہ
کھیتوں کی نگرانی صرف اُن کی دیکھ بھال تک تو محدود نہیں ہوتی۔ نہری پانی کی "واری" آنے پر کھیتوں کو پانی لگا دیا جاتا ہے۔ میں نے چونکہ اپنے سابقہ گاؤں انڈیا میں زرعی اراضی کے کاموں میں حصہ نہ لیا تھا۔
ختم کلام
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








