چاروں طرف دہشت تھی، ہر کوئی تنہائی کا شکار اور ہر قسم کے جبر کا سامنا کر رہا تھا، کوئی پرسان حال نہ تھا، سب ان سختیوں کو برداشت کرنے پر مجبور تھے۔

مصنف کی تفصیلات

مصنف: ع غ جانباز

قسط: 39

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف پاکستان پر قومی مفاد کے خلاف کوئی شرط عائد نہیں کر سکتا: وزیر خزانہ

واقعہ کی تفصیل

پتہ چلا کہ سب کے سب عیسائی ہیں اور اُس نوجوان کی اطلاع پر جوابی حملہ کرنے آئے ہیں۔ اُن سے بات چیت کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے فصل کاٹنے کو تو کوئی وزن ہی نہ دیا۔ کہنے لگے کہ یہ فصلیں تو سب گاؤں والوں کی ہیں ہم بھی اس میں حصّہ دار ہیں۔ لہٰذا جہاں سے چاہیں فصل کاٹ کر لے جاسکتے ہیں۔ چونکہ تم لوگوں نے ہمارے نوجوان کو ڈرایا دھمکایا اور بھگایا ہے لہٰذا تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: میڈیا میں جو تنخواہ رپورٹ ہوئی اس میں ایک صفر زیادہ لگا ہے، چیئرمین ایس ای سی پی کا سینیٹ کمیٹی خزانہ میں تنخواہ بتانے سے گریز

بندوق اور فیصلہ

چنانچہ گھیرا ڈال کر بندوق بھی انہوں نے اپنے قابو میں کر لی اور سب کو گاؤں کی طرف لے کر چلتے بنے۔ گاؤں میں انہوں نے ایک جگہ سب کو ٹھہرا دیا اور اپنے پادری صاحب کو بلایا اور اُن سے کہا کہ فیصلہ کریں۔ انہوں نے فیصلہ دیا کہ بندوق تھانے میں جمع کروائی جائے گی اور نوجوان کو ڈرانے دھمکانے کا مقدمہ بھی درج کروا دیا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، بندوق انہوں نے تھانے میں جمع کروائی اور مقدّمہ کے لیے بھی تحریری درخواست دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فائٹرز کی بھارت کے خلاف شاندار فتح، پانچوں مقابلے جیت لیے

حالات کی عکاسی

اِس سارے واقعے کے بیان کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ حالات کس قدر مخالف سمت میں رواں دواں تھے۔ کوئی پُرسان حال نہ تھا۔ ایک مزدور پیشہ کمزور عیسائی کمیونٹی ایک بڑی طاقت بن کر سامنے کھڑی تھی۔ انہوں نے چاروں طرف دہشت پھیلائی ہوئی تھی۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ مہاجرین انڈیا کے مختلف اضلاع سے جو آئے وہ ایک دوسرے سے نا آشنا تھے۔ لہٰذا ہر کوئی تنہائی کا شکار تھا اور ہر قسم کے جبر کا سامنا کر رہا تھا۔ چاہے جابر کی اپنی کوئی بھی حیثیت نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی فوڈ چین کی برانچ پر حملہ کرنے والے گرفتار ملزمان کی تصاویر بھی سامنے آ گئیں

میٹینگ اور فیصلے

چنانچہ ایسے واقعات تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہوتے رہے اور سب لوگ ان سختیوں اور زبردستیوں کو برداشت کرنے پر مجبور تھے۔ کہتے ہیں "ہر کمالے را زوالے" کے مصداق جب گاؤں میں مہاجرین کی آبادی کافی ہوگئی تو ان کی سینہ زوری کا حل نکالنے کی ضرورت محسوس کی گئی اور ایک میٹنگ طلب کر لی گئی۔ گاؤں کے چیدہ چیدہ لوگ آئے بات آگے بڑھی اور فیصلہ ہوا کہ اب چونکہ بات سر سے گزر چکی ہے لہٰذا ان لوگوں کا زرعی اراضی میں آنا جانا مکمل طور پر بند کر دیا جائے اور جو اس کی خلاف ورزی کرے اسے موقع پر سزا دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے فقیر بنا دیا ہے، میرے پاس کوئی انٹرویو کیلئے نہ آئے،’ اداکار راشد محمود یوٹیوبرزپر برہم

عملدرآمد اور نتائج

چنانچہ چند کمیٹیاں بنا دی گئیں۔ جب عملدرآمد شروع ہوا تو وہ لوگ چیخے چلّائے لیکن اب حالات پلٹا کھا چکے تھے۔ لہٰذا چند روز میں وہ لوگ تنگ آگئے اور وفد لے کر آئے اور پھر آئندہ کے لیے اپنا رویہ بدلنے کی یقین دہائی کرائی۔

یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: نالے کے کنارے وی آئی پی ڈینٹل کلینک، سرعام لوگوں کی جانوں سے کھلواڑ، عطائی ڈاکٹر رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

مزدوری اور تعاون

اس طرح وہ پہلے کی طرح زرعی فارموں پر بطور مزدور کام کرنے لگ پڑے کیونکہ اُن کا لوٹا ہوا مال جلد ختم ہوگیا۔ خون پسینے کی کمائی ہوتی ہے جو سوچ سمجھ کر خرچ کی جاتی ہے اور کچھ دیر ٹھہرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹن بیبر کا اعتراف: منشیات کے استعمال سے حد سے باہر نکل جانے کا تجربہ

زرعی کاموں کا تجربہ

کھیتوں کی نگرانی صرف اُن کی دیکھ بھال تک تو محدود نہیں ہوتی۔ نہری پانی کی "واری" آنے پر کھیتوں کو پانی لگا دیا جاتا ہے۔ میں نے چونکہ اپنے سابقہ گاؤں انڈیا میں زرعی اراضی کے کاموں میں حصہ نہ لیا تھا۔

ختم کلام

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...