اڑتی ریت کے پیچھے گاڑی چلانا وہ بھی رات کو آسان نہیں، بغیر گائیڈ کے سفر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے، ہرن اور دیسی بکرے کا بھناگوشت کھلایا۔
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 420
یہ بھی پڑھیں: باجوڑ آپریشن سے متاثرہ پاکستانی شہری کو افغانستان ڈی پورٹ کرنے کی کوشش ناکام
پروگرام کا آغاز
اس پروگرام کے افتتاح کے بعد ڈی جی کہنے لگے؛ "مجھے دراوڑ فورٹ دکھائیں۔" ہم سر شام انہیں دراوڑ لے گئے۔ ڈی جی کہنے لگے؛ "یار! میں ممی ڈیڈی بچہ ہوں۔ برگر کھا کر جوان ہوا ہوں۔ مجھے دیسی کھانے کھلاؤ۔"
یہ بھی پڑھیں: اقرار الحسن کی سیاسی جماعت کا نام اور پارٹی پرچم سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا
دعوت کی تفصیلات
قلعہ دکھایا اور دراوڑ ریسٹ ہاؤس میں ہرن اور دیسی بکرے کا بھناگوشت کھلایا۔ (اس دعوت کا اہتمام میرے دوست اور چولستان ڈولپمنٹ اتھارٹی کے سب انجینئر امتیاز لا شاری نے کیا تھا۔ وہ بھی شاندار انسان تھا۔ فرض شناس اور تابع دار۔ چولستان میں کوئی بھی میلہ ہو، کوئی اہم شخصیت آئے، امتیاز لاشاری ہر جگہ نظر آئے گا۔ یہ روہی کے چپہ چپہ سے واقف اور ہر روہی واسی سے بھی شناسا تھا۔ اس سے آج بھی رابطہ ہے۔ اگر آپ سرکاری ملازم ہیں اور بہاول پور پوسٹنگ کے دوران امتیاز لا زاری سے نہیں ملے تو سمجھ لیں آپ نے بہاول پور ہی نہیں دیکھا۔ یہ بہاول پور کا ہر دلعزیز اور محبت کرنے والا سرکاری ملاز م ہے۔)
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: ضلعی عدلیہ میں ڈیپوٹیشن پر آئے ججز کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کالعدم قرار
عبداللہ گل کی آمد
عشاء کی نماز سے کچھ پہلے عبداللہ گل بھی اپنی آٹو میٹک ڈبل کیبن میں آگیا۔ ڈی جی سے اس کا تعارف کرایا اور سب جلد آپس میں گھل مل گئے۔ دراوڑ سے اس کے ڈیرہ "ٹوبھ گل والا" روانہ ہوئے۔ راستہ کچا اور صحرا کے بیچ سے گزرتا تھا۔ میرے پاس شاہ عالم نیازی (یہ میرے دوست سیلم نیازی کے گہرے دوست اور منڈی مویشیاں کے بڑے ٹھیکیدار بلا کے مہمان نواز، یار دوست اور شاندار انسان تھے۔) کی ڈبل کیبن تھی۔ عامر، عبداللہ گل، نجیب اور ندیم اسلم، گل کی گاڑی میں بیٹھ گئے جبکہ باقی دوست میرے ساتھ تھے۔ گل کی آٹو میٹک گاڑی دیکھ کر ڈی جی بولا؛ "یار! میں نے کبھی بھی آٹو میٹک گاڑی نہیں چلائی۔ ڈبل کیبن مجھے چلانے دو۔"
یہ بھی پڑھیں: پکپتن سے آگے لائن: زرخیز اور مشہور علاقے، انگریزوں کا فیصل آباد میں بڑا اسٹیشن
قطبی ستارے کی تلاش
رات کے پہلے پہر سفر پر نکلے تو تھوڑا دور جا کر صحرا میں قطبی ستارہ (دب اکبر) تلاش کرنے لگے۔ مزے کی بات یہ تھی کہ ہر شخص کا اپنا ہی قطبی ستارہ تھا اگر اُس رات راہ سے بھٹکے ہوتے تو صحرا میں ہی بھٹکتے رہتے کہ ہم سب کا دب اکبر اپنا اپنا ہی تھا جبکہ قدرت کا تخلیق کردہ یہ ستارہ "صحرا کا قدرتی نیوی گیشن نظام ہے۔" درواڑ کے پیچھے ڈلوش داھڑ میں داخل ہوئے اور کچھ دیر میں ہی ریت کے ٹیلے شروع ہو گئے۔ اڑتی ریت کے پیچھے گاڑی چلانا وہ بھی رات کو آسان نہیں۔ گائیڈ بھی اگلی گاڑی میں تھا۔ صحرا میں بغیر گائیڈ کے سفر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یومِ تکبیر پر مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس کی عوام کو مبارکباد
سفر کی مشکلات
ایک بار تو درخت سے ٹکراتے بچے تھے۔ بڑی مشکل سے دو گھنٹے کا تکلیف دہ سفر طے ہوا تھا۔ ہم آگے جاتی گاڑی کی ٹیل لائیٹ کو فالو کر رہے تھے بس کوشش تھی کہ کہیں یہ نظر سے اوجھل نہ ہو جائے۔ طارق انور اس سفر میں بڑی دل جمعی اور ہوشیاری سے آگے جاتی گاڑی کی دھیمی سی نظر آتی ٹائیل لائیٹ کو نظر سے اوجھل نہیں ہونے دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آذربائیجان کا پاکستان کی مکمل حمایت، ساتھ دینے کا اعلان
ڈیرہ پہنچنے پر عبداللہ گل کا غصہ
ڈیرہ پہنچے تو عبداللہ گل بہت غصہ میں تھا۔ پتہ چلا ندیم اسلم آٹومیٹیک گاڑی کے گیئر بھی ہاتھ سے بدلنے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ دوتین بار منع کرنے اور سمجھانے پر بھی باز نہ آئے تو عبداللہ گل نے برا منایا اور ان کی ٹانگ ہی پکڑ لی۔ منیوئل گاڑی چلا چلا کر وہ عادت سے مجبور تھے شاید۔ صحرا میں گاڑی چلانا آسان نہیں ہوتا۔ ریت پر چلتی گاڑی ڈرفٹ کرتی ہے اور اسے قابو کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ ڈرائیونگ تھرلنگ ہونے کے ساتھ ساتھ ڈرائیونگ کا امتحان بھی ہے۔ ریت میں 4 بائی 4 لگا کر اور ٹائروں میں ہوا کا پریشر کم رکھا جاتا ہے تاکہ ٹائر کی گرپ مضبوط رہے۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








