فلپائن میں میئر پر آر پی جی سے ڈرامائی انداز میں ہولناک حملہ، ویڈیو وائرل ہوگئی
حملہ کا واقعہ
منیلا(ڈیلی پاکستان آن لائن) جنوبی فلپائن کے صوبے مگوئنداناؤ ڈیل سور میں شریف اگواک کے میئر اکمد امپاتوان پر راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ (آر پی جی) سے حملہ کیا گیا، تاہم وہ بلٹ پروف گاڑی کے باعث محفوظ رہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہر لاہور میں درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر پابندی عائد
واقعے کی تفصیلات
واقعہ 25 جنوری کی صبح پیش آیا، جس میں میئر کے دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق میئر اکمد امپاتوان مقامی مارکیٹ سے گھر واپس جا رہے تھے کہ میونسپل ہال کے قریب ایک سفید وین نے ان کے قافلے کو نشانہ بنایا۔
حملہ آور وین سے اترے، جن میں سے ایک نے آر پی جی فائر کیا، جو میئر کی بکتر بند ٹویوٹا لینڈ کروزر سے ٹکرا کر دھواں اور نقصان کا باعث بنا، تاہم گاڑی نہ رکی اور میئر محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورے ہفتے میں صرف 16 گھنٹے کام کر کے بچوں کے ساتھ سال میں کئی چھٹیاں گزارنے والی خاتون، یہ سب کیسے کرتی ہے؟
حملے کے نتائج
واقعے کے دوران عقب میں موجود سکیورٹی گاڑی پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آوروں کو وین سے اترتے اور آر پی جی اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔
Land Cruiser took direct hit from RPG-7 and kept moving.
Armored Toyota Land Cruiser was struck by an RPG-7 during an ambush in Philippines. The vehicle absorbed the explosion and continued driving away, allowing the mayor to escape unharmed. pic.twitter.com/En7mLjCyFz
— Gun Lovers Club (@GunloverClub1) January 25, 2026
یہ بھی پڑھیں: جمشید دستی کی نااہلی کیخلاف درخواستوں پر سماعت 16 ستمبر تک ملتوی
فوج اور پولیس کی مشترکہ کارروائی
حملے کے فوری بعد فلپائن نیشنل پولیس اور فوج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تعاقب شروع کیا۔ حملہ آور قریبی علاقے داتو انسائے فرار ہوئے، جہاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں تینوں مشتبہ افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس نے ان کے قبضے سے آر پی جی لانچر اور کئی جدید رائفلیں برآمد کیں۔
تحقیقات اور پس منظر
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت مقامی سطح پر کی جا چکی ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ میئر اکمد امپاتوان پر 2014 کے بعد تیسرا قاتلانہ حملہ ہے، جو خطے میں جاری سیاسی کشیدگی اور بدامنی کی عکاسی کرتا ہے۔








