شانزے علی کے بھارتی ملبوسات پر دادا شیخ روحیل اصغر کی وضاحت
جاری شادی کی چہ میگوئیاں
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) حال ہی میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر اور ن لیگی رہنما شیخ روحیل اصغر کی پوتی شانزے علی روحیل کی شادی کا چرچہ تاحال جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 189 شہروں کی تعمیر و ترقی کی منظوری،ہر شہر کو جمالیاتی طور پر بہترین نظر آنا چاہیے: مریم نواز
سوشل میڈیا کا تبصرہ
روزنامہ جنگ کے مطابق، سوشل میڈیا صارفین شادی کے مختلف پہلوؤں، خصوصاً سٹائلنگ، ملبوسات اور دیگر وائرل لمحات پر کھل کر تبصرے کر رہے ہیں۔ بالخصوص دلہن شانزے علی روحیل کے مہندی اور بارات کے ملبوسات زیرِ بحث رہے، کیونکہ یہ ملبوسات بھارتی ڈیزائنرز کے تیار کردہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ڈرونز کے ذریعے منشیات اسمگل کرنے والا نیٹ ورک گرفتار
ڈیزائنرز کی تفصیلات
مختلف رپورٹس کے مطابق، ان کا مہندی کا لباس سبیاساچی مکھرجی جبکہ بارات کی ساڑھی ترون تہلیانی نے ڈیزائن کی تھی۔ بعض مداحوں نے بھارتی ڈیزائنرز کی ویب سائٹس پر جا کر ان ملبوسات کی قیمتوں کا بھی اندازہ لگایا۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا کے ممبر مطہر رانا کا استعفیٰ منظور
روحیل اصغر کا ردِعمل
اب حال ہی میں جنید صفدر کے سسر اور شانزے علی روحیل کے دادا شیخ روحیل اصغر نے ان ملبوسات پر ہونے والی تنقید پر ردِعمل کا اظہار کیا۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے روحیل اصغر نے کہا کہ "مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ شادی پر خرچ ہونے والی رقم پر کیوں ناراض ہیں۔ میں نے اپنی حیثیت کے مطابق کیا جو کچھ کیا۔ میں نے کسی سے کچھ لیا؟"
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے قریبی دوست عمران چودھری انتقال کر گئے
تنقید کا سبب
انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والے حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ لوگ اس بات پر اعتراض کر رہے ہیں کہ شادی کے ملبوسات بھارتی ڈیزائنرز کے تھے، جبکہ انہیں یہ علم نہیں کہ شانزے کی پُھوپھی، یعنی میری چھوٹی بیٹی، پاکستان کی بڑی ڈریس ڈیزائنرز میں سے ایک ہے اور کئی لوگ ان سے اپنے لباس تیار کرواتے ہیں۔
جذباتی تبصرے
انہوں نے مزید کہا کہ "میں ایسے بیمار ذہن رکھنے والوں پر افسوس کرتا ہوں اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ اس طرح کی باتوں پر کیوں بحث کرتے ہیں۔"
روحیل اصغر کے مطابق لوگوں کو یہ رویہ ترک کر دینا چاہیے، کیونکہ جو کچھ آج وہ کہہ رہے ہیں، کل وہی باتیں ان کی طرف بھی لوٹ سکتی ہیں۔








