یورپی یونین اور بھارت کے درمیان فری ٹریڈ ڈیل اور دفاعی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے
یورپی یونین اور بھارت کے درمیان فری ٹریڈ ڈیل
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والی فری ٹریڈ ڈیل اور دفاعی معاہدے کے اہم نکات سامنے آگئے۔
یہ بھی پڑھیں: سی پی پی اے نے بجلی قیمت میں 36پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دے دی
معاہدوں کے اہم نکات
تفصیلات کے مطابق، ان معاہدوں کے لیے یورپی یونین کی تمام اعلیٰ قیادت، جن میں یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، یورپی کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین، اور یورپی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس شامل ہیں، جدید دہلی میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اجتماعی شادیوں کے نام پر کم عمر لڑکیوں کی ڈھائی سے 5 لاکھ روپے میں فروخت کا انکشاف
بھارت کی دفاعی خریداری
ایک یورپی اہلکار نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارت، جو روایتی طور پر روس سے ہتھیار خریدتا رہا ہے، یورپ سے حالیہ ہتھیاروں کی خریداری کو دوگنا کر دے گا، جن میں فرانس سے مزید ڈسالٹ رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (PAFDA) میں جم، کیفے ٹیریا اور ڈے کئیر سینٹر کا افتتاح، 10 سالہ پلان تیار
محصولات اور برآمدات
مختلف یورپی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، یورپ چاہتا ہے کہ بھارت اپنی کاروں پر محصولات میں کمی کرے، جبکہ بھارت یہ ضمانت چاہتا ہے کہ اس کی سٹیل کی برآمدات یورپی یونین کے آئندہ ٹیرف اور بلاک کے کاربن بارڈر ٹیکس سے متاثر نہیں ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: تیونس میں 40 اپوزیشن رہنماؤں کو 5 سے 45 سال تک قید کی سزائیں
مذاکرات کی صورتحال
’’جنگ‘‘ نے رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات ان نکات پر جاری ہیں، مگر توقع ہے کہ کل تک ان مسائل کا حل نکل آئے گا۔ بھارت کی جانب سے توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ کاروں کے ٹیرف کو کم کرے گا، جبکہ یورپی یونین بھارتی کمپنیوں کو اضافی ڈیکاربونائزیشن سپورٹ پیش کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں فیوچر فیسٹ ایجوکیشن اینڈ کیریئر ایکسپو کا انعقاد، قونصل جنرل حسین محمد کی بھی شرکت
زرعی چیلنجز
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس ڈیل کا مشکل حصہ زراعت ہے، جہاں گوشت، پولٹری، چاول اور چینی جیسی مصنوعات کو ٹیرف کی کٹوتیوں سے باہر رکھا جائے گا، جبکہ یورپی وائن، اسپرٹ اور زیتون کے تیل پر ڈیوٹی میں اضافہ متوقع ہے، جس سے فرانس اور آئرلینڈ جیسے زراعت پر مرکوز ممالک کی شمولیت کا امکان بڑھتا ہے۔
سیکیورٹی اور دفاعی شراکت داری
اس دورے کا ایک اور اہم پہلو ای یو - انڈیا سیکیورٹی اور دفاعی پارٹنرشپ ہے، جو یورپی اور بھارتی دفاعی صنعتوں کو مربوط کرنے پر مرکوز ہے۔







