یورپی یونین اور بھارت کے درمیان فری ٹریڈ ڈیل اور دفاعی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے
یورپی یونین اور بھارت کے درمیان فری ٹریڈ ڈیل
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہونے والی فری ٹریڈ ڈیل اور دفاعی معاہدے کے اہم نکات سامنے آگئے۔
یہ بھی پڑھیں: میرٹ کے مطابق قاسم خان سوری نے امریکا میں اوبر نہیں چلانی تھی تو کیا ناسا میں ڈائریکٹر لگ جانا تھا؟عابد شیر علی
معاہدوں کے اہم نکات
تفصیلات کے مطابق، ان معاہدوں کے لیے یورپی یونین کی تمام اعلیٰ قیادت، جن میں یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، یورپی کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین، اور یورپی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس شامل ہیں، جدید دہلی میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ننکانہ صاحب: خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے 2 بچے جاں بحق، 4 افراد زخمی
بھارت کی دفاعی خریداری
ایک یورپی اہلکار نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارت، جو روایتی طور پر روس سے ہتھیار خریدتا رہا ہے، یورپ سے حالیہ ہتھیاروں کی خریداری کو دوگنا کر دے گا، جن میں فرانس سے مزید ڈسالٹ رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اٹارنی جنرل قومی اسمبلی میں موجود اور 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کی نگرانی کر رہے ہیں، صحافی اعزاز سید
محصولات اور برآمدات
مختلف یورپی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، یورپ چاہتا ہے کہ بھارت اپنی کاروں پر محصولات میں کمی کرے، جبکہ بھارت یہ ضمانت چاہتا ہے کہ اس کی سٹیل کی برآمدات یورپی یونین کے آئندہ ٹیرف اور بلاک کے کاربن بارڈر ٹیکس سے متاثر نہیں ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں خاتون نے کمسن گھریلو ملازمہ کو چھٹی کرنے پر بدترین تشدد کا نشانہ بنا دیا
مذاکرات کی صورتحال
’’جنگ‘‘ نے رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات ان نکات پر جاری ہیں، مگر توقع ہے کہ کل تک ان مسائل کا حل نکل آئے گا۔ بھارت کی جانب سے توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ کاروں کے ٹیرف کو کم کرے گا، جبکہ یورپی یونین بھارتی کمپنیوں کو اضافی ڈیکاربونائزیشن سپورٹ پیش کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کروم اور موزیلا فائرفاکس کے ذریعے ہیکنگ کا خدشہ، ایڈوائزری جاری
زرعی چیلنجز
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس ڈیل کا مشکل حصہ زراعت ہے، جہاں گوشت، پولٹری، چاول اور چینی جیسی مصنوعات کو ٹیرف کی کٹوتیوں سے باہر رکھا جائے گا، جبکہ یورپی وائن، اسپرٹ اور زیتون کے تیل پر ڈیوٹی میں اضافہ متوقع ہے، جس سے فرانس اور آئرلینڈ جیسے زراعت پر مرکوز ممالک کی شمولیت کا امکان بڑھتا ہے۔
سیکیورٹی اور دفاعی شراکت داری
اس دورے کا ایک اور اہم پہلو ای یو - انڈیا سیکیورٹی اور دفاعی پارٹنرشپ ہے، جو یورپی اور بھارتی دفاعی صنعتوں کو مربوط کرنے پر مرکوز ہے۔








