پگھل نہ جائے کہیں یوں ہی برف مہلت کی۔۔۔
اجتناب اور اضطرار
یہ اجتناب مرے اضطرار سے تو نہیں
گریز پائی عدم اعتبار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: سخت افسوس ہے ششی تھرور نے بھارت کی جانب سے کولمبیا کیلئے یہ الفاظ کیوں کہے ۔۔؟ جانیے
غمِ روزگار
درختِ وقت سے اپنے لیے چُرا کچھ برگ
مفر کبھی بھی غمِ روزگار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: کراچی؛ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے 4 ایجنٹ گرفتار
انتظار کی مہلت
پگھل نہ جائے کہیں یوں ہی برف مہلت کی
میں تھکنے والا ترے انتظار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: گوگل کے ہوم پیج پر برسوں بعد بڑی تبدیلی
محبت کا مدار
وہ مثل شمس، زمیں کی طرح ہے عشق مرا
نکلنے والا میں اپنے مدار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: سونا ۳۲۰۰ روپے مہنگا، فی تولہ قیمت ۴ لاکھ ۶۷ ہزار ۹۶۲ روپے ہو گئی
بادِ مخالف کا زور
یہ کیا کہ بادِ مخالف میں اب نہیں وہ زور
بھٹک گیا میں تری رہ گزار سے تو نہیں
سانس ہجر میں راغب
اُکھڑنے لگتی ہے کیوں سانس ہجر میں راغب
بحال تارِ نفس بوے یار سے تو نہیں








