پگھل نہ جائے کہیں یوں ہی برف مہلت کی۔۔۔
اجتناب اور اضطرار
یہ اجتناب مرے اضطرار سے تو نہیں
گریز پائی عدم اعتبار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز ہوگیا
غمِ روزگار
درختِ وقت سے اپنے لیے چُرا کچھ برگ
مفر کبھی بھی غمِ روزگار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک بیوٹی انفلوئنسر لائیو سٹریم کے دوران قتل، وجہ سامنے آگئی
انتظار کی مہلت
پگھل نہ جائے کہیں یوں ہی برف مہلت کی
میں تھکنے والا ترے انتظار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں مسلسل ہوشربا اضافے کے بعد معمولی کمی
محبت کا مدار
وہ مثل شمس، زمیں کی طرح ہے عشق مرا
نکلنے والا میں اپنے مدار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کی مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے سیاسی جماعتوں کو عدالتی نوٹس دئیے جائیں
بادِ مخالف کا زور
یہ کیا کہ بادِ مخالف میں اب نہیں وہ زور
بھٹک گیا میں تری رہ گزار سے تو نہیں
سانس ہجر میں راغب
اُکھڑنے لگتی ہے کیوں سانس ہجر میں راغب
بحال تارِ نفس بوے یار سے تو نہیں








