پارلیمنٹ میں بیٹھ کر آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہیے، حافظ حمد اللہ
آئین اور قانون سازی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ قرآن و سنت کیخلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: مودی راج میں بھارت خواتین کے لیے دنیا کا سب سے غیر محفوظ ترین ملک قرار، نظام انصاف مفلوج، عالمی میڈیا بول اٹھا، شرمناک اعدادوشمار پیش کیے
پارلیمنٹ کی ذمہ داریاں
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی قوانین منظور کرے تو یہ آئین سے انحراف کے مترادف ہے۔ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ آئین کے مطابق کر رہے ہیں، اور میں مولانا کو تجویز دے رہا ہوں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا انعقاد کریں، خواہ وہ 18 سال سے کم عمر ہی کیوں نہ ہوں۔
قانون کی عدم تسلیم
حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ جو قانون قرآن و سنت کیخلاف ہو، اس قانون کو ہم تسلیم نہیں کریں گے۔ اگرچہ میں دوسری شادی کے موڈ میں نہیں ہوں، لیکن اگر مجھے غصہ آیا اور میں نے فیصلہ کیا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔
میرا مولانا فضل الرحمٰن کو مشورہ ہے کہ وہ چاروں صوبوں میں بالغ بچوں کی اجتماعی شادیاں کروائیں، خواہ وہ 18 سال سے کم عمر ہی کیوں نہ ہوں۔
اگرچہ میں دوسری شادی کے موڈ میں نہیں ہوں، لیکن اگر مجھے غصہ آیا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔ حافظ حمداللہ pic.twitter.com/BaGRMuoShl— WE News (@WENewsPk) January 26, 2026








