کراچی کے سینکڑوں وکلاء کا چیف جسٹس آف پاکستان کے نام کھلا خط

وکلاء کا چیف جسٹس کے نام کھلا خط
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی کے 534 وکلاء نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناقص تفتیش کی وجہ سے تکنیکی بنیاد پر شک کا فائدہ ملزمان کو دینا پڑتا ہے، جسٹس محسن کیانی
آئینی اصلاحات اور اس کے اثرات
ایکسپریس نیوز کے مطابق، خط میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں وفاقی آئینی عدالت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر آئینی ترمیم ہوئی تو اس کے نتیجے میں عدالتی آزادی متاثر ہوگی اور آئین کا حلیہ بگڑ جائے گا۔ بنیادی حقوق متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی مقدمات کے فوجی عدالتوں میں چلنے کا راستہ بھی ہموار ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت ہوش کے ناخن لے، فیصلے ذاتی نہیں ملکی مفاد میں کیے جائیں:شازیہ مری
وکلا کا مؤقف
وکلا نے اس کھلے خط میں کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے موجودہ عدلیہ بے اختیار ہو جائے گی۔ آئین میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ریاست کو منتخب نمائندوں کے ذریعے چلایا جانا ہے اور موجودہ پارلیمنٹ کے پاس ایسا اختیار نہیں ہے۔ مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن عوام کو ووٹ کا حق دینے میں ناکام رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رینجرز اہلکاروں کو گاڑی کے نیچے کچلنے کیخلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع
الیکشن کمیشن کی ناکامی
وکلا نے نشاندہی کی ہے کہ الیکشن کمیشن نہ تو عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کر سکا اور نہ ہی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کر سکا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے اور موجودہ پارلیمنٹ کو آئینی ترمیم سے روک دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں، ساتھی فٹبالر کا دعویٰ
حفاظت اور سالمیت کا مسئلہ
وکلا کی برادری نے فطری انصاف پر ہونے والے حملے کو برداشت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ کھلے خط میں چیف جسٹس آف پاکستان سے کہا گیا ہے کہ اس وقت پوری قوم کی نظریں آپ پر ہیں، کیونکہ یہ کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی حفاظت اور سالمیت کا معاملہ ہے۔
سپریم کورٹ سے مطالبات
اس کھلے خط کے ذریعے سپریم کورٹ کے تمام ججز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بنیادی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنائیں۔