اگر اپنا ضمیر بیچنا ہوتا تو میں بھی 26ویں ترمیم کے وقت 2ارب 20 کروڑ لے کر بیچ دیتا، مگر میں نے عمران خان کے نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا، شیر افضل مروت
اسلام آباد کی خبریں
شیر افضل مروت کا سیاسی موقف
رکن پارلیمنٹ شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ جب یہ لوگ تھک جائیں گے تو میں نکلوں گا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ ڈیڑھ سال انہوں نے ضائع کیا، جو ایک قیمتی وقت تھا، اور جتنا وقت ضائع ہو رہا ہے، اتنی ہی عمران خان کی رہائی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ خدانخواستہ اگر یہ کامیاب نہیں ہوتے تو میں پارٹی سے کہوں گا کہ ہم مل بیٹھ کر کوئی فیصلہ کریں۔
صحافی کا سوال
صحافی نے پوچھا: "عام طور پر جب لوگوں کو پارٹیوں سے نکال دیا جاتا ہے تو وہ لیڈر بدل لیتے ہیں، یا دوسری جماعتوں میں شامل ہو جاتے ہیں، مگر میں نے دیکھا ہے کہ آج بھی آپ کا دفتر عمران خان کی تصاویر سے بھرا ہوا ہے۔ کیا یہ اس بات کی نشانی ہے کہ عمران خان اب بھی آپ کے دل میں بستے ہیں؟"
شیر افضل خان مروت کا جواب
شیر افضل خان مروت نے جواب دیا کہ "26ویں آئینی ترمیم کے وقت اگر اپنا ضمیر بیچنا ہوتا تو میں بھی 2 ارب 20 کروڑ لے کر اپنا ضمیر بیچ دیتا، پیسے کما لیتا اور وزارت بھی لے لیتا۔ میں کوئی ارب پتی یا کھرب پتی آدمی نہیں ہوں مگر میں نے عمران خان کے کاز اور نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا۔"
سوشل میڈیا پر گفتگو
صحافی کا شیر افضل خان مروت سے سوال:
"عام طور پر جب لوگوں کو پارٹیوں سے نکال دیا جاتا ہے تو وہ لیڈر بدل لیتے ہیں، یا دوسری جماعتوں میں شامل ہو جاتے ہیں، مگر میں نے دیکھا ہے کہ آج بھی آپ کا دفتر عمران خان کی تصاویر سے بھرا ہوا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان اب بھی آپ کے دل... pic.twitter.com/K10w7LVy6B— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) January 26, 2026








