صحرا کے رنگ کمال ہیں، کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا ریت میں کیا جادو ہے یہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے، صحرا کے اندر جاتے جائیں بھید کھلتے جاتے ہیں

شہزاد احمد حمید کی کہانی

قسط: 421

بار بی کیو اور موسیقی کی محفل

ڈیرے پر اُس نے بہت لذیز بار بی کیو کا بندوبست اور صحن میں بون فائر کا انتظام کر رکھا تھا۔ لوک فنکار چڑی (لوکل ساز) اور بانسری نواز بھی اپنے اپنے فن سے صحرا کی خاموشی اور ٹھنڈی رات میں سروں کو چھیڑتے خاموشی توڑنے لگے تھے۔ موسیقی سنتے رہے، سر بھی دھنتے رہے۔ مزیدار بار بی کیو بھی زبانی چٹخارے دار بناتا رہا، خنک موسم میں آگ کا الاؤ تاپتے آسمان کی وسعتوں پر چمکتے چاند ستاروں کی بادلوں سے آنکھ مچولی بھی دیکھتے رہے۔ اللہ کی یہ فیاضیاں صحرا کا وہ وجدان ہیں جو ہر جان دار پر سحر طاری کر دیتی ہیں۔

یادیں اور صبح کا ستارہ

کمی گر تھی تو کسی نازنین کی کہ وہ اس ماحول کو دو آتشہ بنا دیتی۔ بقول شاعر؛ “دنیا کی رونق تمھیں سے ہے۔“ آدھی رات کے کچھ بعد گل کے ڈیرے سے نکلے۔ یزمان سے ہوتے بہاول پور پہنچے تو صبح کا تارہ بہت روشن ہوتا نئی صبح کی نوید دے رہا تھا۔ شہری بابو کیا جانیں یہ صبح کا ستارہ (morning star) کیا ہوتا ہے؟ صبح فجر کے وقت آسمان کے مشرق میں انتہائی چمک دار ستارہ (morning star) ہی صبح کی نوید دیتا ہے۔

کمشنر کیمپ آفس کی باتیں

کمشنر کے کیمپ آفس میں اکثر شام کو گپ شپ کی محفل سجتی۔ میں بھی کبھی کبھار اس میں شریک ہوتا تھا۔ ڈاکٹر سیف اللہ، مہر رشید اور چند اور احباب شریک ہوتے تھے۔ ایک روز نے کمشنر ایم ڈی (منیجنگ ڈائریکٹر) چولستان ڈولپمنٹ اتھارٹی جاوید اقبال سے پوچھا؛ “جاوید! کتنا چولستان پھر (دیکھ) لیا ہے؟“ بولے؛ “30/40 فیصد گھو ما ہوں گا۔“ انہیں آئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔

منفرد مقامات کی تہذیب

کمشنر بولے؛ “جاوید کوئی ایسی جگہ بتاؤ جو منفرد اور تمھیں اچھی لگی ہو۔“ انہوں نے کوئی جواب نہ دیا تو مجھ سے پوچھا؛ “آپ بتائیں۔ آپ نے تو صحرا گردی کافی کی ہے کہ کتاب ہی لکھ ڈالی۔“ میں نے جواب دیا؛ “سر! صحرا کے رنگ کمال ہیں۔ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا ریت میں کیا جادو ہے۔ یہ اپنی طرف ہی کھینچ لیتی ہے۔ جیسے جیسے صحرا کے اندر جاتے جائیں صحرا کے بھید کھلتے جاتے ہیں۔ ویسے مجھے اسلام گڑھ اچھا لگا اور دوسرا “الاہو رانیہ۔“ یہ ہندوؤں کا متبرک مقام ہے۔ مسلمان بھی یہاں آتے ہیں۔ یہ جگہ منفرد، تاریخی اور مذہبی ہے۔”

نیکی اور علم کا مطالعہ

ایسی ہی ایک محفل میں میں نے کمشنر کو حضرت علیؓ کا ایک قول؛ “اللہ نیکی کا موقع ہر شخص کو نہیں دیتا ہے۔“ سنایا۔ میری بات سن کر ڈاکٹر سیف اللہ سے کہا؛ “ڈاکٹر! تم کیا کہتے ہو؟“ ڈاکٹر کہنے لگا؛ “سر! ان کی بات مان لی جائے تو اللہ کا نظام برابر نہ رہے گا۔ نیکی تو ہر شخص کر سکتا ہے۔” ڈاکٹروں کی بات سن کر مجھ سے کہا؛ “شہزاد صاحب! ڈاکٹر سیف کی بات کا کیسے جواب دیں گے؟” “سر! پہلی بات تو یہ ہے کہ ’علم کے شہر‘ کا فرمان غلط نہیں ہو سکتا۔ دوسرا؛ سر! اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ نیکی کے کام کے لیے اللہ اپنے بندوں میں سے کسی کو چنتا ہے جبکہ موقع ہر شخص کو ملتا ہے۔”

نوٹ

یہ کتاب “بک ہوم” نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...