واٹس ایپ محفوظ نہیں ہے، سگنل بھی مشکوک ہیں اس لیئے ایکس چیٹ استعمال کریں۔ ایلون مسک نے حیران کن پیغام جاری کر دیا
ایلون مسک کی واٹس ایپ پر تنقید
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے میٹا کی ملکیت والے واٹس ایپ کو ڈیٹا سیکیورٹی کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا اور صارفین سے کہا کہ وہ ایکس چیٹ استعمال کریں۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا
مقدمہ اور دعوے
ایلون مسک کی یہ پوسٹ میٹا کے خلاف دائر ایک مقدمے کے تناظر میں سامنے آئی ہے جس میں واٹس ایپ کی پرائیویسی اور سیکیورٹی سے متعلق دعوؤں کو چیلنج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں دوست نے بے وفائی پر خاتون کو آگ لگا کر مار ڈالا
ایکس چیٹ کی تجویز
ایلون مسک نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ’واٹس ایپ محفوظ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ سگنل بھی مشکوک ہے۔ ایکس چیٹ استعمال کریں‘۔
یہ بھی پڑھیں: جب سوویت فوجیوں نے ایک اڑن طشتری گرائی تو خلائی مخلوق نے 23 فوجیوں کو پتھر بنادیا، سی آئی اے دستاویز میں تہلکہ خیز دعویٰ
صارفین کے خدشات
مسک نے یہ تبصرہ ایک صارف کی پوسٹ کے جواب میں کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ واٹس ایپ اپنے صارفین کی نجی چیٹس پڑھ سکتا ہے، حالانکہ کمپنی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا وعدہ کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اساتذہ سراپا احتجاج، خیبرپختونخوا کے پرائمری سکول بند کردیئے گئے
مقدمے کے مدعیان
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مقدمہ دائر کرنے والے مدعیان کا تعلق بھارت، آسٹریلیا، برازیل، میکسیکو اور جنوبی افریقہ سے ہے۔ مدعیان نے الزام عائد کیا ہے کہ میٹا اور واٹس ایپ صارفین کی نجی گفتگو کو محفوظ کرتے، تجزیہ کرتے اور اس تک رسائی رکھتے ہیں اور اس طرح اربوں صارفین کو دھوکہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فوڈ واؤچر کے ذریعے کھانے کی بجائے ٹوتھ پیسٹ اور دوسری اشیاء خریدنے پر فیس بک کے ملازمین کی برطرفی
واٹس ایپ کا دفاع
واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ اس کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی بدولت پیغامات صرف بھیجنے والے اور وصول کرنے والے تک محدود رہتے ہیں۔ میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے اس مقدمے کو ’فضول اور بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی قانونی کارروائی کے ذریعے مدعیان کے وکلا کے خلاف پابندیاں حاصل کرے گی۔
میٹا کی ملکیت اور انکرپشن
واضح رہے کہ میٹا نے 2014 میں واٹس ایپ کو خرید لیا تھا، اور اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن گزشتہ ایک دہائی سے اس کا حصہ ہے۔








