ججز بھی نااہل ہیں اور عدالتیں بھی مردہ ہوگئی ہیں: جسٹس محسن اختر کے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے خلاف وکیلوں کی ہڑتال پر ریمارکس
اسلام آباد ہائیکورٹ کی کاروائی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی انسانی حقوق کیلئے سرگرم وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے خلاف وکیلوں کی ہڑتال پر برس پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی دفاع کے عظیم مقصد کیلئے اختلافات ایک طرف رکھنا اچھی روایت ہے، نواز شریف
وکلا کی ہڑتال کی وجوہات
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو بتایا گیا کہ وکلا کی ہڑتال ہے، اسی لیے وکیل پیش نہیں ہوئے، وکلا کی ہڑتال کِس وجہ سے ہے؟
یہ بھی پڑھیں: شی جن پنگ، پیوٹن اور وزیراعظم شہباز شریف ایک ساتھ پریڈ وینیو میں داخل ہوئے، بھارت کو دعوت نہ ملی، عالمی میڈیا پر بھرپور کوریج
جسٹس محسن کے سوالات
جسٹس محسن کے سوال پر بیرسٹر خوش بخت نے بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملائشیا میں خوفناک آتشزدگی کے دوران 5 پاکستانی ملائشین قوم کے ہیرو بن گئے، قوم و ملک کا نام روشن کردیا
بیرسٹر خوش بخت کے جواب کا جواب
جسٹس محسن نے ریمارکس دیئے کہ وہ جن کو خود گرفتار کرایا ہے؟ خود جیل بھجواتے ہیں، پھر ہڑتال کردیتے ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی کے مزید ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ کتنی اچھی ہماری بار ہے، میڈل ملنا چاہیے، ججز بھی نااہل ہیں اور عدالتیں بھی مردہ ہوگئی ہیں، بار تو دونوں وکلا کو خود جیل چھوڑ کر آئی ہے، بغیر قانون کے جج نے کمال کا فیصلہ دے دیا ہے۔








