وفاقی وزیر مصدق ملک سے سائی ٹیک ڈپلُو ہب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر الیکسس روئگ کی ملاقات
وفاقی وزیر کی ملاقات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سے سائی ٹیک ڈپلُو ہب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر الیکسس روئگ نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں موسمیاتی اقدامات کے لیے سائنس اور سفارت کاری کے باہمی انضمام کو مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے الیکسس روئگ اور سائی ٹیک ڈپلُو ہب کی جانب سے سائنس اور سفارت کاری کے مؤثر امتزاج کے لیے کی جانے والی پیش رفت کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: کسی ریاست کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ سیاسی انتقام کیلئے فیملی کو نشانہ بنائے، علیمہ خان کے بیٹوں کی گرفتاری پر جمائمہ خان کا رد عمل
سائنس اور سفارت کاری کی اہمیت
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سے جاری بیان کے مطابق ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں سائنس اور سفارت کاری کا باہمی ربط ایک عالمی ضرورت ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث درپیش معاشی اور سماجی دباؤ کے تناظر میں یہ پاکستان کے لیے خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ ملاقات کے دوران پاکستان کے مقامی علمی وسائل، تحقیقی صلاحیتوں اور تحقیقاتی ڈھانچے سے مؤثر استفادے پر زور دیا گیا اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ یونٹس دفاع وطن کیلئے جدید ترین ہتھیاروں کا زیادہ استعمال یقینی بنائیں: جنرل ساحر شمشاد مرزا
پالیسی سازی میں بہتری کے اقدامات
’’اے پی پی‘‘ کے مطابق اس ضمن میں تربیتی اور فیلوشپ پروگرامز کی تیاری، بشمول سائنسدانوں کو سرکاری وزارتوں میں تعینات کرنے کے امکانات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا تاکہ پالیسی سازی کے عمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر مستقبل کے تعاون کے لیے ایک جامع روڈمیپ مشترکہ طور پر تیار کیا جائے گا۔
مستقبل کے روڈمیپ کی تفصیلات
مجوزہ روڈمیپ میں اے جی سی اور تقریباً 100 پی ایچ ڈی سطح کے موسمیاتی ماہرین کو متحرک کرنا، مالی وسائل کی فراہمی اور پائیدار سائنسی مشاورتی نظام کے قیام پر توجہ دی جائے گی۔ ملاقات میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی)، گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر (جی سی آئی ایس سی)، جامعات، قومی تحقیقی مراکز اور وزارتِ خارجہ کے نمائندگان سمیت اہم متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔








