ایران کے پاس وقت بہت کم، بات نہ مانی تو پہلے سے بڑا حملہ ہوگا، ٹرمپ
ٹرمپ کی ایران کو وارننگ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ ایک بہت بڑا امریکی بحری بیڑا تیزی کے ساتھ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، جو غیر معمولی طاقت، جوش اور واضح مقصد کے ساتھ حرکت میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 100 سے زائد بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے والے چوہے نے عالمی ریکارڈ بنادیا
بحری بیڑے کی تفصیلات
ان کے مطابق یہ بحری بیڑا، جس کی قیادت معروف ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کر رہا ہے، اس بیڑے سے کہیں بڑا ہے جو ماضی میں وینزویلا کی طرف بھیجا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر داخلہ کو شکست دے کر ایم این اے بننے والے لیگی رہنما کا تہلکہ خیز انٹرویو
امریکی فوج کی تیاری
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جس طرح وینزویلا کے معاملے میں امریکی فوج تیار، باصلاحیت اور فیصلہ کن تھی، اسی طرح یہ بیڑا بھی ہر قسم کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو انتہائی تیزی اور سخت قوت کے ساتھ اپنا مشن پورا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ نے علاقائی خطرات کے باعث آپریشن محافظ البحر کا آغاز کردیا
مذاکرات کی اہمیت
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ اور متوازن معاہدہ کرے گا، جس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، اور یہ معاہدہ تمام فریقوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی پابندیاں متعصبانہ ، اقدامات تجارتی اداروں کیلئے ٹیکنالوجی تک رسائی میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں:اسحاق ڈار
وقت کی کمی
امریکی صدر نے کہا کہ وقت بہت کم رہ گیا ہے اور صورتحال نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس سے قبل بھی ایران کو معاہدہ کرنے کا کہہ چکے ہیں، لیکن ایران نے اس وقت بات نہیں مانی، جس کے نتیجے میں “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کے نام سے ایک بڑا فوجی حملہ ہوا جس میں ایران کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
حملے کی ممکنہ شدت
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اب بھی معاہدہ نہ کیا گیا تو آئندہ حملہ اس سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا اور ایران کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال کو دوبارہ جنم نہ دے۔








