یوکرین جنگ میں روس کا جانی نقصان 12 لاکھ تک پہنچ گیا
روس کی جنگی صورتحال کا جائزہ
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کو تقریباً چار سال ہونے والے ہیں اور اس دوران روسی فوج کو جو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے وہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی بڑی فوجی طاقت کے لیے غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔ ایک معروف بین الاقوامی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی تازہ رپورٹ کے مطابق یوکرین جنگ میں اب تک روس کے لگ بھگ 12 لاکھ فوجی ہلاک، زخمی یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چھٹیوں کے باوجود سکول کھلے رکھنے پر 5 تعلیمی ادارے سیل
جنگ میں روس کی کامیابیوں کا تجزیہ
رپورٹ کے مطابق اتنے بڑے انسانی نقصان کے باوجود روس کو میدانِ جنگ میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ 2022 سے اب تک روس نے یوکرین کے زیرِ کنٹرول علاقے میں صرف 12 فیصد اضافہ کیا ہے، جو اس وسیع جنگ اور بھاری قیمت کے مقابلے میں انتہائی محدود پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں اس تاثر کو بھی چیلنج کیا گیا ہے کہ روس کی فتح ناگزیر ہے۔ اگرچہ بعض مغربی حلقوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ روس حجم اور طاقت کے بل پر بالآخر کامیاب ہو جائے گا، تاہم رپورٹ کے مطابق زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں اعزازات کا حصول ہماری پیشہ ورانہ قابلیت و تکنیکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے: ایئر چیف
یوکرین کی دفاعی حکمتِ عملی
سی ایس آئی ایس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کو دفاعی پوزیشن پر واضح برتری حاصل ہے۔ یوکرین کی دفاعی حکمتِ عملی، جس میں خندقیں، اینٹی ٹینک رکاوٹیں، بارودی سرنگیں، ڈرونز اور توپ خانے کا مؤثر استعمال شامل ہے، نے روسی افواج کو بڑی پیش رفت سے روکے رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق میدانِ جنگ میں جانی نقصان کا تناسب بھی یوکرین کے حق میں ہے، جہاں روس کو یوکرین کے مقابلے میں دو سے ڈھائی گنا زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں شادی سے قبل ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل، ڈاکو اپنی موٹر سائیکل چھوڑ کر فرار
جانی نقصانات کا موازنہ
سی این این کے مطابق رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ یوکرین کے مجموعی جانی نقصانات پانچ سے چھ لاکھ کے درمیان ہیں، جبکہ روس کے نقصانات بارہ لاکھ تک پہنچ چکے ہیں۔ ہلاکتوں کے اعداد و شمار کے مطابق روس کے دو لاکھ پچھتر ہزار سے تین لاکھ پچیس ہزار فوجی مارے جا چکے ہیں، جبکہ یوکرین کی ہلاکتیں ایک لاکھ سے ایک لاکھ چالیس ہزار کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مصنفین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روس اس جنگ میں جیت کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ججوں کے تقرر میں پارلیمان کا کردار عدلیہ پر حملہ کیسے ہوگیا؟ سینیٹ میں شیری رحمان کا استفسار
تاریخی موازنہ
اگر ان نقصانات کا موازنہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہونے والی بڑی جنگوں سے کیا جائے تو روس کا حالیہ نقصان غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔ امریکی افواج کو کوریائی جنگ میں تقریباً ستاون ہزار اور ویتنام جنگ میں سینتالیس ہزار فوجیوں کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین میں روس کا جانی نقصان افغانستان جنگ اور چیچنیا کی دونوں جنگوں سمیت، دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی تمام روسی اور سوویت جنگوں کے مجموعی نقصان سے بھی پانچ گنا زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ نہ کھیلنے کی خبروں پر بھارتی کرکٹ بورڈ کا موقف بھی سامنے آ گیا
روس کی فوجی بھرتی کے چیلنجز
نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے مطابق دسمبر کے مہینے میں روس کو روزانہ تقریباً ایک ہزار فوجیوں کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بقول 1980 کی دہائی میں افغانستان میں سوویت یونین کو 10 برسوں میں بیس ہزار فوجیوں کا نقصان ہوا تھا، جبکہ اب روس ایک مہینے میں 30 ہزار فوجی کھو رہا ہے۔ غیر ملکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کے لیے نئے فوجی بھرتی کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے اور ہلاکتوں و زخمیوں کی تعداد اب اس کی بھرتی اور متبادل کی صلاحیت سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اس وقت پاکستان میں نہ آئین ہے اور نہ قانون کی حکمرانی ہے، عدالتی فیصلوں کو سرعام بے توقیر کیا جارہا ہے، جنید اکبر خان
معاشی اثرات
جنگ نے روسی معیشت پر بھی گہرے منفی اثرات ڈالے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین جنگ کے نتیجے میں روس عملی طور پر دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں کی صف سے باہر ہوتا جا رہا ہے اور اب اسے دوسری یا تیسری درجے کی معاشی طاقت قرار دیا جا سکتا ہے۔ صنعتی پیداوار میں کمی، صارفین کی کمزور طلب، بلند افراطِ زر اور افرادی قوت کی قلت کے باعث 2025 میں روس کی معاشی شرحِ نمو صرف 0.6 فیصد رہی۔
یہ بھی پڑھیں: اے این ایف کی کارروائیاں: بھاری مقدار میں منشیات برآمد، 4 ملزمان گرفتار
طویل المدتی اثرات
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اسلحہ، وردیوں اور دفاعی تنصیبات جیسے اخراجات مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ دکھاتے ہیں، مگر یہ طویل المدتی فلاح یا سرمایہ سازی میں کوئی بہتری نہیں لاتے۔ اس کے علاوہ روس ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی پیچھے رہ گیا ہے اور دنیا کی سو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اس کی کوئی کمپنی شامل نہیں۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے درجہ بندی میں روس چھتیس ممالک میں اٹھائیسویں نمبر پر ہے، جو اسپین، سعودی عرب اور ملائیشیا جیسے ممالک سے بھی پیچھے ہے۔
امن مذاکرات کی جدوجہد
رپورٹ کے مطابق ان تمام منفی حالات کے باوجود روسی صدر کے لیے دباؤ کے بغیر کسی امن معاہدے پر آمادہ ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور یورپ نے معاشی اور فوجی دباؤ میں اضافہ نہ کیا تو روس مذاکرات کو طول دیتا رہے گا اور جنگ جاری رکھے گا، چاہے اس کی قیمت مزید لاکھوں روسی اور یوکرینی جانوں کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔








