بھوک، بھیک اور جرم کو جنم دیتی ہے، انسان جب سمندر کی موجوں کے تھپیڑے کھا رہا ہوتا ہے تو صرف اپنی جان کی فکر ہوتی ہے کپڑے لٹّے کی نہیں ہوتی
مصنف کی ابتدائی معلومات
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 41
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کی سمری ایوان صدر بھجوا دی
مہم کی شروعات
کوئی ایک کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا ہوگا کہ جب جوانوں کا ایک گروہ پیچھے سے آیا اور انہوں نے اپنی مخصوص دل دہلا دینے والی آوازیں نکال کر ہماری طرف دھاوا بول دیا اور پل جھپکنے میں تینوں بیلوں کو لے کر چلتے بنے۔ میں نے ایک بیل کی رسّی کی گانٹھ جو دوسرے بیلوں کے ساتھ بندھی ہوئی تھی کھولنے کی کوشش بھی کی تاکہ ایک ہی بیل مل جائے جو کامیاب نہ ہوسکی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی طے پا گئی، حتمی تاریخ کا اعلان جلد متوقع
شہر کی جانب واپسی
بس پھر کیا تھا برچھا اور پرانی خاکی نیکر لے کر واپس ہوئے جس کام کے لیے آئے تھے وہ بھی نہ ہوا یعنی شہر سے دال اور ہنڈیا لانے کے لیے آئے تھے۔ لہٰذا واپس جا کر پھر علی الصبح کھیتوں میں جا کر ہری مرچیں تلاش کرنی پڑیں تاکہ خشک روٹی پر رگڑ کر رول بنا کر پیٹ کی آگ بجھائیں اور پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کریں۔ غربت اور بھوک ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ پھر بھوک، بھیک اور جُرم کو جنم دیتی ہے۔ اِسی لیے غربت کو جُرم کے ساتھ نتھی کر دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی یاد رکھو تم ڈرپوک ہو، کشمیر آتش فشاں پہاڑ ہے جو بہت جلد پھٹنے والا ہے، مشعال ملک
وقت کا گزرتا ہوا مرحلہ
دو ڈھائی مہینے کا عرصہ اِسی طرح گذر گیا۔ آخر ایک دن ساتھ والے گاؤں باگیوال کے صوفی ابراہیم صاحب ہمارے گاؤں میں آئے اور وہ والد صاحب سے بھی ملے۔ انہوں نے ہمارے متعلق بھی پوچھا کہ "وہ وہاں انڈیا میں پڑھتے تھے؟" تو والد صاحب نے بتایا کہ وہاں بڑا لڑکا عبد الغفور دسویں اور چھوٹا لڑکا عبد الرشید نویں کلاس میں پڑھتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن، وکلا اور بہنوں کو ملاقات کی اجازت مل گئی
تعلیم کے امکانات
انہوں نے والد صاحب سے کہا کہ ان کو فیصل آباد میں واقع مسلم ہائی سکول میں جا کر داخل کروا دیں۔ والد صاحب تھوڑی دیر کے لیے سوچ بچار میں پڑے رہے تو صوفی صاحب نے کہا کہ حالات ٹھیک ہوجائیں گے، ان کی پڑھائی کو جاری رکھیں۔ والد صاحب اکیلے اگلے دن سکول گئے تو وہاں ہیڈ ماسٹر صاحب سے ملے اور اُنہیں ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا تو اُنہوں نے ہمارے نام اپنے پاس ریکارڈ کر لیے اور والد صاحب سے کہا ان کو بھیج دیجئے گا، وہ یہاں بورڈنگ ہاؤس میں رہ کر دو ڈھائی مہینے بعد اپنے امتحان دے دیں۔ پھر والد صاحب نے ہمیں اسلامیہ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس بھیج دیا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے ہمیں بورڈنگ ہاؤس میں بھیج دیا اور کہا کہ وہاں جہاں کہیں جگہ ملتی ہے سَر چھپا لیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ پر دبئی جانے والے مسافر سے آئس ہیروئن اور نشہ آور گولیاں برآمد
فرد کی حالت
اب ذرا میری اُس وقت جو حالت تھی اُس کا بھی ذکر ہوجائے۔ نیچے دھوتی بندھئی ہوئی تھی جو آنے سے ایک دن پہلے دھوئی بھی گئی تھی، لیکن اُس کی پُوری سفیدی واپس نہ آسکی تھی، بلکہ یہ ایک لائٹ براؤن، سفیدی مائل، دھبّوں کی ایک شیٹ تھی۔ باقی رہا قمیض تو اس کے دائیں طرف کے پہلو پر داغ دَھبّوں کی ایک بارات تھی۔ یہ کیسے معرض وجود میں آئے میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ کشتی میں بیٹھا انسان جب سمندر کی موجوں کے تھپیڑے کھا رہا ہوتا ہے تو اس کو صرف اپنی جان کی فکر ہوتی ہے کپڑے لتّے کی نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے دونوں سینیٹرز استعفیٰ دیں ورنہ پارٹی سے برطرف کر دیں گے : اختر مینگل
پاؤں کی حالت
پاؤں میں البتہ نئی ہوائی چپل تھی جو ایک دن پہلے خریدی گئی تھی۔ انڈیا سے اپنی گاؤں سے دوسرے گاؤں اور پھر اُس سے تیسرے گاؤں کو جاتے ہوئے دیسی چمڑے کی بنی ہوئی "نوکیلی" جُوتی رات کے اندھیرے میں راستہ میں پڑنے والے ایک برساتی نالے کی نذر ہوگئی تھی جس میں سے گزرنا پڑا تھا اور پھر لاہور پہنچنے تک ننگے پاؤں ہی رہے۔
چند یادیں
اور ہاں بغل میں دبائی ہوئی چیز جس پر میری گرفت بڑی مضبوط تھی اس کا ذکر بھی ہوجائے یہ ایک لوہے کا چھوٹے سائز کا ٹرنک تھا۔ اس پر کبھی، کسی وقت پینٹ/پالش بھی ضرور کسی نے کیا ہوگا کیونکہ اس پر کھجور سائز کے ہلکے سبز رنگ کے چند دھبّے اس بات کی غمازی کر رہے تھے ورنہ میں کوئی نجومی تو ہونے سے رہا۔ اس کے اوپر ڈھکنے کی طرف ایک بڑی نمایاں دراڑ تھی جو راستے میں بس کی چھت کی بلندی سے گرنے پر معرض وجود میں آئی تھی.
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








