کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں، چیئرمین نیب
چیئرمین نیب کا کراچی میں خطاب
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے متعدد تعلیمی بورڈز نے میٹرک 2025 کے پوزیشن ہولڈرز کا اعلان کر دیا
کراچی کے کاروباری طبقے کی اہمیت
کراچی کے مقامی ہوٹل میں شہر کے کاروباری طبقے سے خطاب میں چیئرمین نیب نے کہا کہ کراچی کے کاروباری طبقے کا بڑا حوصلہ ہے، جو ناانصافیوں کے باوجود یہاں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر کے ساتھ بہت دھوکہ بازی ہوئی ہے، شہر کے کاروباری طبقے کی مشاورت سے بہت کام کرنے ہیں، کراچی سے پاکستان کا سارا قرض اتار سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ویب سائٹ کی ‘غلطی’: آئرلینڈ میں سینکڑوں افراد ہیلووین پریڈ کے لیے پہنچ گئے-1
معاشی چیلنجز اور امید
لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے مزید کہا کہ آپ کی پریشانیوں اور چیلنجز کا ادراک ہے، کاروباری اعتماد اچھا نہیں ہے، ٹیکسز اور سیکیورٹی کے معاملات ہیں، لیکن عین وقت پر روزہ نہ توڑیں، پاکستان کے اچھے دن آنے والے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ آپ سے وعدہ ہے کہ کراچی کے لیے ہم وسائل مہیا کریں گے، معزز لوگوں سے 30، 30 ارب کی زمینیں واپس لی ہیں۔ پورے صوبے کی زمینوں کا ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری کاروباری اداروں کے منافع میں کمی، پاور سیکٹر کے نقصانات 5 ہزار 900 ارب روپے تک پہنچ گئے
آنے والے ترقی کے مواقع
چیئرمین نیب نے یہ بھی کہا کہ آئندہ 3 مہینوں میں 11 ہزار ارب روپے مزید لوں گا، ساری تیاریاں کرلی ہیں، کراچی میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
Youth and Agriculture in Pakistan
انہوں نے کہا کہ کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں، بہت سے نئے آئیڈیاز پر کام کر رہے ہیں، اگلے 2 سال بہت اہم ہیں، لوگوں کو نوکریوں سے نہ نکالیں، بہت کچھ آنے والا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا کہ 25 کروڑ آبادی میں 65 فیصد نوجوان ہے، پاکستان خوراک پیدا کرنے والا امیر ملک ہے، زراعت ہماری ضرورت پوری کرلیتا ہے۔
عالمی مالیاتی چیلنجز
اُن کا کہنا تھا کہ دنیا ڈالر سے دوسری کرنسیوں پر منتقل ہو رہی ہے، اگلے 2 سال بہت اہم ہیں، مئی کے بعد پاکستان کی دنیا میں نئی شناخت سامنے آئی ہے، قرضوں کی وجہ سے پوری دنیا کے برے حالات ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ یہ معاملات میرے نہیں لیکن یہ اعتماد پر اثرانداز ہوتے ہیں، اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ آپکے معاملات حل کرائیں گے، حکومت کا ظرف ہے کہ آئی ایم ایف سے مذکرات کی مشکل بتاتی نہیں۔








