افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں کیسے شامل کر دیا؟ عدالت نادرا حکام پر برہم
عدالت کا نادرا حکام پر سخت برہمی کا اظہار
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے فیملی ٹری میں غیر متعلقہ شخص کو شامل کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران نادرا حکام پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیل کے اندر بانی پی ٹی آئی کی مختلف بیماریوں کا علاج ہوتا رہا ہے، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک
درخواست گزار کی شکایت
روزنامہ جنگ کے مطابق عدالت میں درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان شہری کو درخواست گزار کی فیملی ٹری میں شامل کر لیا گیا ہے، اب درخواست گزار کی پوری فیملی کے قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی بینکوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا
جسٹس عدنان الکریم میمن کا ردعمل
اس پر جسٹس عدنان الکریم میمن نے نادرا کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں کیسے شامل کر دیا گیا؟
یہ بھی پڑھیں: چین کا اہم اقدام، بھارتی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی
فیملی کے شناختی کارڈز کا مسئلہ
جسٹس عدنان الکریم میمن نے استفسار کیا کہ یہ تو پاکستانی ہیں ان کے شناختی کارڈز کیوں بلاک کر دیے گئے؟ ایک شخص کی وجہ سے پوری فیملی کو کیوں پھنسایا گیا؟
یہ بھی پڑھیں: 18 برس کی عمر میں قید ہوا، 38 سال بعد رہائی ملی، اردنی قیدی شام کی جیل سے اپنے گھر پہنچ گیا
عدالت کا حکم
عدالت نے حکم دیتے ہوئے مزید کہا کہ اگر کوئی غیر متعلقہ شخص درخواست گزار کی فیملی میں شامل ہے تو نام خارج کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
جسٹس ذوالفقار علی کے ریمارکس
جسٹس ذوالفقار علی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پیسے لے کر ہر فیملی میں پتہ نہیں کتنے بندے شامل کر دیے ہوں گے۔
سماعت کی تفصیلات
بعد ازاں عدالت نے نادرا کو 10 روز میں پوری فیملی کی قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔








