8 فروری کے بعد پی ٹی آئی کی مقبولیت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیرِ مملکت حذیفہ رحمان
اسلام آباد میں وزیرِ مملکت حذیفہ رحمان کی گفتگو
وزیرِ مملکت حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پہیہ جام ہڑتال اور احتجاج کی کوشش کر رہی ہے، تاہم حکومت نے بیک ڈور رابطے کر کے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا ہے کہ اس راستے پر نہ جائیں بلکہ مذاکرات کی میز پر بات کریں۔
پی ٹی آئی کی مقبولیت اور ہڑتال کی صورت میں عوام کا ردعمل
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر اس کے باوجود پہیہ جام ہڑتال کی گئی تو عوام پی ٹی آئی کا ساتھ نہیں دیں گے، اور 8 فروری 2026 کے بعد پی ٹی آئی کی مقبولیت سب کے سامنے آ جائے گی۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات
وزیرِ مملکت نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ تعاون کرنا چاہتی ہے، مذاکرات کی بات فواد چوہدری، محمود مولوی اور عمران اسماعیل کی جانب سے کی گئی، تاہم اگر پی ٹی آئی کی قیادت فواد چوہدری سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے تو ان کی تجاویز کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ثالثی کا کردار اسی وقت ممکن ہے جب دونوں فریق اس پر متفق ہوں۔
آئینی معاملات اور 18ویں آئینی ترمیم
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے صرف یہی کہا گیا ہے کہ جو افراد عدالتوں سے سزا یافتہ نہیں، ان کی رہائی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ آئینی معاملات پر بات کرتے ہوئے حذیفہ رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو 18ویں آئینی ترمیم کی اہمیت سمجھائی گئی ہے۔ 2010 میں آنے والی ترمیم میں اگر کوئی خامی نظر آتی ہے تو اسے درست کرنا کوئی بری بات نہیں، تاہم 18ویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ اسے بہتر بنانے پر غور ہو رہا ہے۔
28ویں آئینی ترمیم کا منصوبہ
وزیر مملکت نے بتایا کہ 28ویں آئینی ترمیم پر غور ہو رہا ہے، جس میں این ایف سی ایوارڈ کو بہتر بنایا جائے گا اور صوبوں کے حقوق نہیں چھینے جائیں گے۔ این ایف سی میں دفاع اور پنشن کی رقم الگ کر کے تقسیم کا موجودہ طریقہ کار برقرار رہے گا، تاہم جتنا مالی بوجھ سندھ پر پڑے گا، اس سے کہیں زیادہ پنجاب کو قربانی دینا پڑے گی۔








