نیپرا نے دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دائر درخواست پر سماعت مکمل کر لی ،بجلی فی یونٹ 48 پیسے سستی ہونے کا امکان
بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجلی کی قیمت میں ایک ماہ کے لیے فی یونٹ 48 پیسے کمی کا امکان ہے، دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دائر درخواست پر نیپرا میں سماعت مکمل کر لی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 47واں اجلاس، عمران خان سے فوری طور پر اہل خانہ اور ڈاکٹرز کی ملاقات کا مطالبہ
نیپرا کی سماعت
نیپرا حکام کے مطابق اتھارٹی درخواست پر فیصلہ اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد جاری کرے گی۔ سماعت کے دوران سی پی پی اے حکام نے بتایا کہ درخواست فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے سے متعلق تھی۔ حکام کے مطابق دسمبر میں بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے درآمدی گیس اور کوئلے سے چلنے والے پلانٹس چلائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ماڑی پور سے گرفتار مبینہ بھارتی جاسوس سے کیا کچھ برآمد ہوا ۔۔؟ جان کر آپ حیران جائیں
حکام کا جواب
سی پی پی اے کا کہنا تھا کہ حکومت کے انکریمنٹل پیکج کے باعث قیمتوں میں اضافہ آرہا ہے۔ اس پر ممبر نیپرا مقصود انور نے ریمارکس دیے کہ پہلے کہا گیا تھا کہ انکریمنٹل پیکج کے باعث مہنگے پلانٹس چلانے پڑیں گے، جبکہ سی پی پی اے نے کہا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت نے حکم دیا جن درختوں سے لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں، انہیں کاٹ دیا جائے، ایک درخت کے بدلے میں 3 لگائے جا رہے ہیں، مصدق ملک
سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ
سی پی پی اے حکام نے جواب دیا کہ اس کا فرق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں ایڈجسٹ ہو جائے گا اور انکریمنٹل پیکج کے فوائد بھی ہیں۔ حکام کے مطابق اس پیکج سے 44 فیصد صنعتی صارفین اور 39 فیصد زرعی صارفین نے استفادہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ کے زیر اہتمام انٹرنیشنل سکواش چیمپئن شپ اختتام پذیر ، ائیر مارشل شکیل غضنفر کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت
سولرائزیشن کا اثر
ممبر نیپرا مقصود انور نے مزید کہا کہ سولرائزیشن کے باعث دن کے وقت بجلی کی طلب کم ہو جاتی ہے، لہٰذا دن میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے بھی کوئی پیکج لانا چاہیے۔
آنے والی درخواست
سی پی پی اے نے بتایا کہ اس حوالے سے کام جاری ہے اور جلد ریگولیٹر کے پاس درخواست پیش کی جائے گی۔ نیپرا سماعت کے دوران ممبر مقصود انور نے یہ بھی کہا کہ اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ پر پاور ڈویژن نے تاحال تحریری طور پر کچھ نہیں بھجوایا۔








