جواد احمد نے موجودہ دور کے گلوکاروں کو ’’لالچی‘‘ قرار دے دیا
جواد احمد: موسیقی سے سیاست کی طرف
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) نوّے کی دہائی کے معروف پاکستانی گلوکار اور موجودہ سیاست دان جواد احمد آج کل اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ موسیقی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد جواد احمد اکثر سیاسی شخصیات، شوبز ستاروں اور اپنے ہم عصروں پر تنقیدی گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر انہیں خاصی تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھریلو صارفین کو آر ایل این جی کنکشنز فراہم کرنے کی اجازت، 20 ہزار روپے سکیورٹی فیس مقرر
مشہور گلوکاروں پر تنقید
حال ہی میں ایک نیوز شو میں انہوں نے مشہور گلوکاروں کو ’لالچی‘ قرار دے دیا، کہا سیاسی وابستگی کی وجہ سے موسیقی کو خیرباد کہا اور اب وہ گائیکی سے کوئی آمدن حاصل نہیں کرتے، کیونکہ ان کے نزدیک اس شعبے میں مالی لالچ نہیں ہونی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: دورہ آسٹریلیا اور زمبابوے کے لیے قومی وائٹ بال ٹیموں کا اعلان کر دیا گیا
پرانے دور کی یادیں
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں فنکار عوام کے لیے ہر جگہ دستیاب ہوتے تھے اور ان کے کیسٹ ریکارڈ توڑ فروخت ہوتے تھے، یہاں تک کہ بھارت میں بھی لوگ ان کی کامیابی پر حیران رہ جاتے تھے۔ وہ خود دیہات میں بغیر معاوضہ گانے گاتے تھے اور صرف یہی شرط رکھتے تھے کہ گانے سبق آموز ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی سی بی کی جانب سے قومی ٹیم کے نئے کپتان کا فیصلہ کرلیا گیا
موجودہ فنکاروں کا حال
انہوں نے موجودہ گلوکاروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج کل زیادہ تر فنکار صرف شادیوں اور کارپوریٹ تقریبات تک محدود ہو چکے ہیں اور عام مداحوں سے دور ہو گئے ہیں۔ یہ رویہ فن اور فنکار دونوں کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ جس عوام نے انہیں شہرت دی، وہی ان کی ترجیح میں شامل نہیں رہے۔
ویڈیو لنک








