یورپی یونین نے پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا
یورپی یونین کا ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا
برسلز (ڈیلی پاکستان آن لائن) یورپی یونین نے ایران میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کے تناظر میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (ریولوشنری گارڈ) کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے، جبکہ 15 ایرانی عہدیداروں پر پابندیاں بھی عائد کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں 6 ماہ کے دوران بینکوں کے اثاثے 11 فیصد تک بڑھ گئے
بیان میں حکومتی ظالمانہ اقدامات کی مذمت
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے متفقہ طور پر اس فیصلے کی منظوری دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے ہی ہزاروں شہریوں کو قتل کرے، وہ خود اپنی تباہی کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قیوم لودھی انکل کی بھٹو سے ملاقاتیں رہیں
پاسدارانِ انقلاب کا خطرناک درجہ بندی
کاجا کالاس نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کو القاعدہ، حماس اور داعش جیسی تنظیموں کے برابر سمجھا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر کوئی قوت دہشت گردوں جیسا رویہ اپنائے تو اسے دہشت گرد ہی سمجھا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: اتحاد ٹاؤن کا عالمی سفر مزید مضبوط، لندن اور مانچسٹر میں کامیاب یوکے کنیکٹ ایونٹس کا انعقاد
پابندیاں اور انسانی حقوق کی صورتحال
یورپی یونین کے 27 رکن ممالک نے اسی فیصلے کے تحت 15 ایرانی حکام پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے خلاف کارروائیوں میں اب تک کم از کم 6 ہزار 373 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں شہباز شریف اور نریندر مودی کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں، ترجمان دفتر خارجہ
بین الاقوامی دباؤ اور امریکی فوج کی کارروائیاں
یہ اقدامات اگرچہ زیادہ تر علامتی نوعیت کے ہیں، تاہم اس سے ایران پر بین الاقوامی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ایران کو اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کا بھی سامنا ہے، جو پرامن مظاہرین کے قتل اور مبینہ اجتماعی سزاؤں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔
امریکی فوج کی موجودگی
امریکی فوج نے یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز اور کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کر دیے ہیں، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا صدر ٹرمپ طاقت کے استعمال کا حتمی فیصلہ کریں گے یا نہیں۔








