میری ہمت، مردانہ وار قدم بڑھا دیا، اور میں اندر چارپائیوں کے درمیان کھڑا تھا، دروازہ بند کیا لیکن کنڈی چڑھانے کا عمل نا جانے کیوں تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔

مصنف: ع غ جانباز

قسط:42

بورڈنگ ہاؤس کے کمروں کے آگے برآمدہ تھا اور میں اس شان سے جو اوپر اپنے چھوٹے بھائی عبد الرشید کے ساتھ اِختصار کے ساتھ بیان کر چکا ہوں برآمدے میں داخل ہوتا ہوں۔ ناجانے اُن دنوں اِطلاعات کا شعبہ اتنا اپ ٹو ڈ یٹ کیسے ہوگیا تھا حالانکہ پاکستان بننے کے فوراً بعد ہر جگہ ہر کام ا۔ ب سے شروع ہو رہا تھا۔

میرا کہنے کا مطلب آپ شاید نہ سمجھیں، چلو میں سمجھائے دیتا ہوں کہ جُونہی میں پہلے کمرے کے دروازے پر پہنچا، دروازہ بند ہو چکا تھا اور اس کی اندر کی چٹکنی چڑھائی جا چکی تھی۔ میرا مطلب یہ ہے کہ ان کو اطلاع ہو چکی تھی کہ عجائباتِ زمانہ سے ایک چیز (مہاجر) کا اِدھر سے گذر ہونے والا ہے، لہٰذا بچاؤ کی تدابیر کرنا عین عبادت ہوگی۔

کمرے کے حالات

اگلے کمرے والوں نے بھی دروازہ تو بند کیا لیکن کُنڈی چڑھانے کا عمل نا جانے کیوں تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ تیسرے کمرے والے کچھ زیادہ ہی زندہ دِل معلوم ہوئے۔ ان کی جرأت رِندانہ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے ”عجائبات قدرت“ کا مردانہ وار مشاہدہ کرنے کی ٹھانی اور چار لڑکے ایک دوسرے کے ساتھ جُڑ کر کندھے سے کندھا ملائے دروازے میں کھڑے ہوگئے اور مجھے تکنے لگے۔ لہٰذا اُس دروازے سے اِنسان کی کیا مجال جو اندر جا سکے۔

چوتھا کمرہ

چوتھے کمرے کے دروازے پر جب میں نے کوئی دوڑ دُھوپ اور حرکات و سکنات نہ دیکھیں تو ذرا جھجکا کہ مبادا کوئی چکّر نہ ہو اور ماجھی جال پھیلائے نہ کھڑا ہو۔ لیکن آخر حوصلہ نام کی چیز بھی تو انسانوں میں ہی پائی جاتی ہے۔ میرا حوصلہ، مردانہ وار قدم بڑھا گیا اور میں اندر چارپائیوں کے درمیان کھڑا تھا۔

دوستوں کی محبت

ایک دو نوجوان بیٹھے اور دو تین اپنی سکول جانے کی تیاری میں مصروف تھے۔ مجھے اپنے درمیان پا کر پہلے تو انہوں نے احتیاطی تدابیر کا سوچا ہوگا لیکن پھر نا جانے کیونکر دل بڑا کر کے ہلکا سا مسکرا کر ایک دو آوازیں آئیں ”آئیے تشریف رکھیے“۔

ایک بولا ہم آپ کی کیا خدمت کر سکتے ہیں؟ میں نے اپنا مدعا بیان کیا تو انہوں نے خُوشدلی سے مجھے کمرے میں ٹھہرانے کی حامی بھرلی۔ یہ دراز قد شاہ محمد، عطا محمد دو بھائی، عبد الرشید (شیدا) اور غلام محمد وغیرہ شیخوپورہ روڈ پر واقع گاؤں ”لاٹھیاں والا“ کے رہائشی تھے اور میری ”ارائیں برادری“ سے تعلق رکھتے تھے۔ مجھے ایک چارپائی مل گئی۔ میں اور میرا بھائی کچھ سکون میں ہوگئے اور ظاہر ہے اُن کو دعائیں دیتا رہا۔

سکول کی کامیابی

پڑھائی کا سلسلہ جاری رہا، اس دوران ایک تقریری مقابلہ سکول میں منعقد ہوا۔ میں نے بھی ایک مضمون لکھ کر اس مقابلہ میں شمولیت اختیار کی۔ عنوان تھا ”بچپن کی شادی“ یہ ایک مزاحیہ مضمون تھا، جو میں نے بڑی محنت سے لکھا تھا اور اپنے ایک سینئر ٹیچر کو بھی دکھایا تھا، انہوں نے بھی اس کی کچھ نوک پلک دُرست کی تھی۔

مضمون کا پڑھنا تھا کہ ہر طرف اس کی حوصلہ افزائی کی گئی…… اگلے دن سکول میں ہر طرف سے میری تعریف و توصیف کے کلمے سنے گئے اور میں سکول کے ہر خاص و عام کی جانی پہچانی شخصیت بن گیا۔

امتحانات کی کامیابی

مارچ 1948ء میں دو اڑھائی ماہ بعد امتحان ہوا، اور میں 530 نمبر لے کر فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوگیا۔ (فرسٹ ڈویژن ان دنوں 510 نمبر سے شروع ہوتی تھی)۔ چھوٹا بھائی عبد الرشید بھی دسویں کلاس میں ہوگیا۔ میرے مضمون تو آرٹس کے تھے لیکن سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے مجھے بلا کر تاکید کی کہ میں کالج میں سائنس کے مضامین لوں۔

اُن دنوں آج کی طرح یہ کوئی مسئلہ نہ تھا۔ میں نے داخلہ ایف ایس سی نان میڈیکل میں لے لیا۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...