دہشتگردی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، مذاکرات صرف ایسے گروپس سے کیے جائیں جو آئین و قانون کا احترام کرنے پر آمادہ ہوں
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 291
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی قافلہ زیر پوائنٹ پہنچ گیا، جھڑپوں میں 4 رینجرز اہلکار شہید، فوج طلب
سیمینار میں گفتگو
تھنک ٹینک سیٹیزن کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام "دہشت گردی، ریاست کے خلاف جنگ" کے موضوع پر ہونے والے ایک سیمینار میں مقررین نے سابقہ حکمرانوں کی غیر سنجیدگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 برسوں میں ہمارے فوجی اور جمہوری حکمرانوں نے صوبوں اور مرکز کی سطح پر دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے کوئی مؤثر پالیسی اور لائحہ عمل ترتیب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین تک رقوم پہنچانے کے لیے 6 بینک سالانہ ساڑھے 4 ارب روپے سروس چارجز وصول کرتے ہیں، حکام
مناسب اقدامات کی ضرورت
صوبوں کی سطح پر اسپیشل فورسز، اعلیٰ اتھارٹی قائم کرنے، پولیس کو مطلوبہ ٹریننگ اور ہتھیار فراہم کرنے جیسے اقدامات میں ناکامی نے ملک کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 41 فیصد خواتین خون، 80 فیصد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں، نیوٹریشن انٹرنیشنل
اندیشے کا اظہار
معروف دانشور اور سکالر اوریا مقبول جان نے ایک اور سیمینار میں کہا کہ بات چیت صرف ان گروہوں سے کی جائے جو پاکستان کے آئین کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دہشت گردی کی صورت حال ریاست کے خلاف جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مادیّت پسند سوچ سے آزادی — مگر کیسے؟
سپیشل فورس کی تشکیل
ایک مؤثر سپیشل فورس تیار کی جائے جو فوج، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے ماہر افراد پر مشتمل ہو، اور جس کی کمان کسی جرنیل کے سپرد کی جائے۔ اس فورس کے فرائض میں دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوروں کا خاتمہ شامل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: جڑواں بھائی جڑواں ٹاورز بنا رہے ہیں، لاہور کی سب سے بہترین لوکیشن پر لاہور کے سستے ترین اپارٹمنٹس
شدید سزاؤں کی ضرورت
سٹیزن کونسل کے صدر رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ نے کہا کہ غیر ملکی طاقتوں کے آلۂ کار دہشت گردوں کے خلاف ایک واضح انٹرنل سیکورٹی پالیسی بنائی جائے، اور ان کے خلاف سخت سزاؤں پر فوری قانون سازی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان، لکی مروت اور ژوب میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 23 خوارج جہنم واصل کر دیئے گئے
علمائے کرام کی ذمہ داری
اجلاس میں علمائے کرام سے اپیل کی گئی کہ وہ مسلمانوں کو پیغمبر آخر الزمان کے سچے پیروکار بننے کا درس دیں اور ایک دوسرے کے فرقوں میں تقسیم نہ کرنے کی رہنمائی کریں۔
شرکاء کی فہرست
اجلاس میں دیگر مقررین میں ظفر علی راجا، ڈاکٹر پروفیسر شفیق جالندھری، سابق آئی جی پولیس الطاف قمر، ڈاکٹر محی الدین، پروفیسر مشکور صدیقی، پروفیسر نصیر اے چودھری اور پنجاب یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر فرح زیبا ایم اکرام چودھری شامل تھے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








