سانحۂ گل پلازہ پر وفاقی حکومت کی خاموشی بھی تشویشناک ہے، کراچی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے: علی خورشیدی
پی ٹی آئی، جماعتِ اسلامی نہیں متحدہ نے عوام کا مقدمہ لڑا: علی خورشیدی
کراچی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے کہا ہے کہ سانحۂ گل پلازہ پر وفاقی حکومت کی خاموشی بھی تشویشناک ہے، وفاقی کی جانب سے کراچی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ گل پلازہ جوڈیشل انکوائری کا ایم کیو ایم پہلے دن سے مطالبہ کر رہی تھی اور اب ہمارے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت پاکستانی شہریوں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اگر ایسا ہوا تو بھارتی شہری بھی محفوظ نہیں رہیں گے، وزیر دفاع
حکومت کی جانب سے کراچی کی بے حسی
سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور ایم کیو ایم کے رہنما علی خورشیدی نے اراکینِ اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ صوبائی حکومت کے طرزِ حکمرانی پر تنقید کی ہے، کراچی میں پہلے ہی بنیادی ضروریات زندگی کا فقدان نظر آتا ہے، یہاں ڈکیتی مزاحمت اور گٹر کے ڈھکن نہ ہونے پر اموات ہو جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی اخبار نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا پر چلنے والی فیک نیوز کا پول کھول دیا
کراچی کی حالت زار
’’جنگ‘‘ کے مطابق کراچی کی حالت زار پر انہوں نے کہا ہے کہ ایسا شہر جہاں ٹرانسپورٹ کی سہولتیں تک دستیاب نہیں اور نظر آتا ہے کہ کراچی دنیا کا بدترین شہر ہے۔ سانحۂ گل پلازہ پر حکومتی کمیٹی پر پہلے ہی عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، انکوائری ان سے کرائی گئی جو اس سانحے کے ذمے دار تھے، حکومتی تحقیقاتی رپورٹ میں کسی ذمے دار کا نام نہیں لکھا گیا اور انکوائری میں بتایا گیا کہ اب جوڈیشل کمیشن بنانا ہو گا، یہی مطالبہ ہم کر رہے تھے اور ہمیں کہا جا رہا تھا کہ سیاست کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واہگہ بارڈر کے راستے افغانستان اور بھارت کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ جاری، گزشتہ چند دنوں میں ٹرک کیا کچھ لے کر گئے؟ پتہ چل گیا۔
وفاقی حکومت کی خاموشی
علی خورشیدی نے شکوہ کیا کہ سانحۂ گل پلازہ پر وفاقی حکومت کی خاموشی بھی تشویشناک ہے، یہ امر افسوسناک ہے کہ اس شہر کو وفاق کی جانب سے بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کی جدوجہد
علی خورشیدی نے صوبائی ایوان میں حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے عوام کا مقدمہ لڑا اور الحمدللّٰہ کامیاب بھی ہوئی، تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی نے کراچی کا مقدمہ نہیں لڑا، قومی سانحے کے لیے احتجاج پر سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ دینا تھا۔ سانحۂ گل پلازہ میں اموات ہوئیں، اربوں روپے کا نقصان ہوا، ہم نے سب کو اس حادثے پر جھنجھوڑا اور اس معاملے پر ہمارا ایک ہی نقطہ تھا کہ معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، اب حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ دیا ہے، امید کرتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن صاف شفاف تحقیقات کرے گا۔








