تمام دن کی تگ و دو کے بعد جو حاصل ہوا ہے وہ تسلی بخش بھی نہیں، سلمان اکرم راجہ کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات پر تبصرہ
سلمان اکرم راجا کا بیان
(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ آج کی کوشش کے بعد یہ کامیابی ملی کہ بانی کی میڈیکل رپورٹ مل جائے گی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کے بعد سلمان اکرم راجا اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کی۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ تمام دن کی تگ و دو کے بعد جو حاصل ہوا ہے وہ کافی نہیں بلکہ بالکل تسلی بخش بھی نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے زیادہ ہمارے لیے کچھ اہم نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: پنجاب میں بڑا کریک ڈاؤن شروع، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور گرفتاریاں، پولیس والوں کے بھی چالان ہونے لگے
چیف جسٹس سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران چیف جسٹس کو پی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کردیا، آج کی کوشش کے بعد انہیں اس حد تک کامیابی ملی ہے کہ بانی کی رپورٹ مل جائے گی۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آج ہماری چیف جسٹس اور اٹارنی جنرل سے ملاقاتیں ہوئی ہیں، بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی بہنوں کو میڈیکل رپورٹس دے دی جائیں گی۔ پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، اگلے لائحہ عمل کے لیے آج ہی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں پاک بھارت کرکٹ مقابلہ کا میدان سجا
سیاسی کمیٹی کا اجلاس
اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی علامہ راجہ ناصر عباس، محمود اچکزئی سے مشاورت سے لائحہ عمل طے کرے گی، اس معاملے میں حتمی اختیار دونوں اپوزیشن لیڈران کے پاس ہے۔ سلمان اکرم راجا نے یہ بھی کہا کہ آج کی میڈیکل رپورٹ سے ہمیں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی صورتحال کا پتہ چل جائے گا، یہ میڈیکل رپورٹ حاصل کرنا ہمارا مطمع نظر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی وکلاء، خاندان اور رفقاء کے ساتھ ملاقات کے لیے جدو جہد جاری رہے گی، آج ہی اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان سے ملاقات کریں گے۔
اخلاقی مقدمہ
پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما نے کہا کہ ہم نے آج سپریم کورٹ کے باہر اخلاقی مقدمہ لڑا، آج صبح سے چیف جسٹس پاکستان، ان کے عملے اور اٹارنی جنرل سے گفتگو رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی ایسی حالت کر دی گئی کہ انہیں اسپتال لے جانا پڑا، وہ بھی ایسے اسپتال اور ڈاکٹر کے پاس جہاں جانا اُن کی مرضی میں شامل نہیں تھا۔








