پاکستان نیا نیا بنا تھا، تعلیم کے مطابق نوکریوں کا حصول مشکل نہ تھا، گاؤں سے روزانہ، ہمسائے سے مانگ کر سائیکل پر آنا جانا ہوتا تھا۔

مصنف اور ابتدائی زندگی

مصنف: ع غ جانباز
قسط: 43
پاکستان آرمی میں کمیشن

انڈیا سے کُشت و خون کا دریا عبور کر کے اکتوبر 1947ء کو پاکستان آئے۔ میٹرک تو فرسٹ ڈویژن میں پاس کر لی۔ اب تہی دست ہونے کے ناطے آگے پڑھنے کی استطاعت نہ تھی۔ لیکن ایک بھنک کان میں پڑی کہ میٹرک پاس لڑکوں کو آرمی میں کمیشن دینے کے لیے اخبار میں اشتہار چھپا ہے۔ چنانچہ فوراً آرمی میں کمیشن کے لیے ایک عدد درخواست داغ دی۔

یہ بھی پڑھیں: تائیوان میں زلزلے کے شدید جھٹکے

آرمی میں داخلہ

تقریباً 3 ہفتے بعد لاہور چھاؤنی سے بلاوا آگیا۔ چھاؤنی میں داخل ہوئے تو بڑی ہی عزت و تکریم کے ساتھ پیش آئے اور ایک کمرہ الاٹ ہوگیا اور ساتھ ہی ایک آرمی کا نوجوان بطور معاون تعینات ہوگیا اور صبح کو "صاحب بیڈ ٹی" کی صدائیں گونجنے لگیں۔ پھر "Written Tests" ہونے لگے اور مختلف "Field Tests" شروع ہوگئے جو 5 دن تک جاری رہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی نوواک جوکووچ نے پروفیشنل ٹینس پلیئرز ایسوسی ایشن سے دستبرداری کا اعلان کردیا

ناکامی اور دلی تکلیف

چھکے دن بڑے ہی پیار سے ایک لفافہ میں بند ایک لیٹر تھما دیا کہ "حضور اب آپ جاسکتے ہیں، آپ آرمی کے متعین کردہ معیار پر پورا نہیں اُتر سکے، آنے کا بہت بہت شکریہ!!"

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ کی دوستی بے مثال ہے: ترکیہ سفیر

تعلیم کا تسلسل

1948ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد میں نے کچہری بازار "فیصل آباد" میں ایک ٹائپ سکول میں داخلہ لے لیا تاکہ وقت گزاری بھی ہو اور ٹائپنگ میں بھی کچھ مہارت ہوجائے۔ یہ اُن دنوں کی ایک Routine" کا معاملہ تھا۔ اکثر لڑکے میٹرک کے بعد ٹائپ سیکھ کر کلرک بھرتی ہوجاتے۔ پاکستان نیا نیا بنا تھا۔ ہر قسم کے پڑھے لکھے لوگوں کو اُن کی تعلیم کے مطابق نوکریوں کا حصول مشکل نہ تھا۔ گاؤں سے روزانہ، ہمسائے سے مانگ کر سائیکل پر آنا جانا ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف وزیراعظم تھے اور شکوہ کیا کہ مجھے ایک گھنٹہ انتظار کرایا تھا: جاوید ہاشمی

نئے تجربات

ایک روز حسب معمول گٹی اسٹیشن سے آگے ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ سائیکل دوڑائے جا رہا تھا کہ چند گز کے فاصلے پر چالیس پچاس کے پیٹے میں ایک عورت ریل کی پٹری کے پاس بیٹھی ہاتھ کا اشارہ کر کے مجھے ٹھہرنے کے لیے کہہ رہی تھی۔ میں فوراً رُک گیا۔ اُس کے آنسو تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔ اور ساتھ ساتھ آہ و گریہ زاری بھی۔ یہ منظر دیکھ کر میرا دل پسیج گیا۔

یہ بھی پڑھیں: چوہدری ماجد کشمیری نے ایم این اے ساجد مہدی کے ہمراہ 150 متاثرہ خاندانوں میں 2 ہفتوں کا راشن تقسیم کردیا

مدد کی درخواست

پوچھنے پر پتہ چلا کہ اُس کا دیور اُس کے خاوند کی وفات کے بعد زمین کی پیداوار میں حصّہ دینے سے انکاری ہے۔ اُس کی مجھ سے اِستدعا یہ تھی کہ میں اُسے سائیکل پر ساتھ بٹھا کر فیصل آباد لے چلوں جہاں وہ تحصیلدار صاحب سے اپنی داد رسی کے لیے درخواست گزار سکے۔ یہ اس لیے کہ وہ بالکل تہی دست ہے۔ میں نے حامی بھر لی اور اسے سائیکل کے کیرئیر پر بٹھا کر دَس کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے تحصیلدار صاحب کے دفتر کے سامنے اُتار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور قازقستان کی افواج کے درمیان مشترکہ مشقیں جاری

آخری حامی بھری

میں نے جانے کی اجازت چاہی تو کہنے لگی کہ میں نے کبھی کسی افسر سے بات نہیں کی۔ اگر آپ رُک جائیں تو مہربانی ہوگی۔ چنانچہ میں سائیکل کھڑی کر کے اُس کے ساتھ ہولیا اور دفتر کے باہر کھڑے چپڑاسی سے اپنا مدعا بیان کیا۔

وہ کہنے لگا کہ "تحصیلدار صاحب تو دَورے پر چک جھمرہ جو وہاں سے کوئی 20 کلومیٹر ہے گئے ہوئے ہیں۔" اب میں نے اپنی جیب میں ہاتھ مارا تو خوش قسمتی سے جیب میں ریل کے کرایہ کے پیسے تھے جو میں نے اُس کو دینے کی کوشش کی۔ لیکن جناب وہ فرمانے لگیں کہ اُس نے زندگی میں کبھی ریل سے سفر ہی نہیں کیا اور وہ تو نہ جانے کیوں ریل سے ویسے ہی خوفزدہ تھی۔ کوئی اور ذریعہ یعنی پختہ سڑک ابھی بنی ہی نہیں تھی۔ لہٰذا کہنے لگیں جہاں اتنی مہربانی کی ہے مزید کرم فرمائیے اور سائیکل پر ہی چک جھمرہ لے جائیے۔ تشویش تو ہوئی لیکن سارے راستے بند پا کر پھر حامی بھر لی۔ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...