ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، ٹرمپ
امریکی صدر کا ایران سے متوقع معاہدہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے ایران فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے قریب امریکی بحری طاقت اس بیڑے سے بھی بڑی ہے جو انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت گرانے کے لیے روانہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں منکی پاکس کے پہلے کیس کی تشخیص، سپیشل میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا
ایرانی بحری بیڑے کے اثرات
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت ایران کی جانب ایک بڑا بحری بیڑا بڑھ رہا ہے، جسے ارماڈا کہیں یا فلوٹیلا، یہ وینزویلا کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کوئی معاہدہ ہو جائے گا، اور کہا کہ اگر معاہدہ ہوا تو یہ اچھا ہوگا، اور اگر نہ ہوا تو پھر دیکھا جائے گا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں اہم پیشرفت، جے آئی ٹیز کی تفتیش مکمل، علیمہ اور عظمیٰ خان سمیت کون کون قصوروار قرار؟ جانیے
ایران کے جوہری پروگرام پر ٹرمپ کا موقف
اے ایف پی کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور دیگر معاملات پر ڈیڈ لائن سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ہاں انہوں نے ایک وقت مقرر کیا ہے، لیکن اس کی اصل تفصیل صرف ایران ہی جانتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے مظاہرین کی سزائے موت روکنے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران مفاہمت کی طرف آ رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
امریکی فوجی کارروائی کا سوال
تاہم صدر ٹرمپ نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو کیا امریکا وینزویلا کی طرز پر کوئی فوجی کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی عسکری حکمتِ عملی پر کسی قسم کی گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔








