پاکستان نے غلطیاں کیں، نئے پروگرام پر کامیاب عملدرآمد کیلئے مضبوط پالیسیاں ناگزیر ہیں: نمائندہ آئی ایم ایف

پاکستان کے لئے آئی ایم ایف کی نئی تشویش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی نمائندہ ایشتر پیریز نے کہا ہے کہ پاکستان نے پالیسیوں میں غلطیاں کیں اور نئے قرض پروگرام پر کامیاب عملدرآمد کے لئے مضبوط پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنوعاقل: چور 200تولے سونا، ایک کلو چاندی، لاکھوں کی نقدی، پرائز بانڈز سے بھری تجوری لے اڑے
مضبوط پالیسیوں کی ضرورت
ایس ڈی پی آئی کے زیر انتظام تقریب سے خطاب میں ایشتر پیریز نے کہا کہ نئے قرض پروگرام کے کامیاب عملدرآمد کے لئے مضبوط پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے ذریعے ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے گا، نئے پروگرام کے تحت زرعی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا، غذائی اجناس کی امدادی قیمتوں کے تعین میں حکومتی کنٹرول ختم کیا جائے گا جبکہ ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹرز سے ٹیکس آمدنی کو بڑھایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ ریلوے اسٹیشن دھماکے میں شہید افراد کی نماز جنازہ ، آرمی چیف کی شرکت
سماجی تحفظ اور مؤثر ٹیکس نظام
نمائندہ آئی ایم ایف نے کہا کہ سماجی شعبے کو تحفظ دیتے ہوئے ایک بہتر اور زیادہ موثر ٹیکس نظام بنانا ہوگا۔ آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کا مقصد نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کو فروغ دینا ہے، سٹرکچرل اصلاحات کے ذریعے توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا پروگرام کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے ٹیسٹ کرکٹ میں 2 ہزار رنز مکمل
پچھلے چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی
ایشتر پیریز کا کہنا تھا کہ پچھلے سالوں میں استحکام کے باوجود سٹرکچرل چیلنجز کا سامنا رہا۔ پاکستان نے پالیسیوں میں غلطیاں کیں، ہر پروگرام کا مقصد پالیسیوں کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انرجی سیکٹر اور انڈسٹریل پالیسیز مقامی مارکیٹ کو سپورٹ کرتی ہیں، اور جب کسی خاص طبقے کو خصوصی ٹریٹمنٹ دی جاتی ہے تو بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب نے اداکارہ عفت عمر کو کلچرل ایڈوائزر مقرر کردیا
آئی ایم ایف کا غیر سیاسی کردار
ایک سوال کے جواب میں نمائندہ آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ ہم نے ہر طرح سے پاکستان کی مدد کی کوشش کی ہے۔ ہم سیاست سے دور رہتے ہیں، ہمارا مقصد صرف پالیسیوں اور معیشت کو دیکھنا ہوتا ہے۔
ٹیکس کے نظام کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا نظام کسی بھی ملک کے لئے اہم ہوتا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ پر ہم کوئی سوال نہیں کر رہے اور نہ ہی ریورس کررہے ہیں، ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک اہم عنصر ہے جس پر پوری طرح عملدرآمد نہیں ہوا۔