امارات کی حمایت یافتہ RSF کے سوڈان میں مظالم جاری، تازہ حملے میں 24 افراد جاں بحق
بدقسمت واقعہ
خرطوم (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوڈان کے صوبہ شمالی کردفان میں رہاد کے قریب ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ایک ڈرون حملے میں کم از کم 24 شہری جاں بحق ہو گئے، جن میں 8 بچے اور 2 شیر خوار بھی شامل ہیں۔ سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک کے مطابق یہ حملہ ہفتے کے روز ایک ایسی گاڑی پر کیا گیا جو ڈوبیکر کے علاقے سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو لے جا رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی سعودی وزیر مملکت برائے داخلہ سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
انسانی ہمدردی کا بحران
کلیش رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب ایک دن قبل عالمی خوراک پروگرام (WFP) کے قافلے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوڈان کی جاری جنگ میں شہری آبادی اور امدادی سرگرمیاں مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات کی زد میں ہیں۔ ڈرون حملوں کے استعمال نے جنگ کا دائرہ مزید پھیلا دیا ہے اور اب نقل مکانی کے راستے اور انسانی ہمدردی کی راہداریاں تک بھی محفوظ نہیں رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سٹیج اداکارہ روبی انعم نے شوہر کو ماضی کے افیئر ز کے بارے میں کیا بتایا ؟
جرحیوں کی حالت
سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بتایا کہ حملہ آر ایس ایف نے کیا اور اس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے رہاد منتقل کیا گیا۔ تاہم کردفان کے بیشتر علاقوں میں شدید طبی قلت کے باعث زخمیوں کو مناسب سہولیات میسر نہیں۔ نیٹ ورک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور آر ایس ایف کی قیادت کو ان سنگین خلاف ورزیوں پر براہِ راست جوابدہ ٹھہرایا جائے، کیونکہ یہ حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوششیں، جنید اکبر پارٹی رہنماؤں پر برس پڑے
آر ایس ایف کی جنگ و جدل
آر ایس ایف، جسے متحدہ عرب امارات سے منسلک سمجھا جاتا ہے، اپریل 2023 سے سوڈان کی فوج کے خلاف برسرپیکار ہے۔ یہ جنگ ابتدا میں خرطوم میں اقتدار کی کشمکش کے نتیجے میں شروع ہوئی اور پھر پورے ملک میں پھیل گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب تک اس تنازع میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
عالمی دباؤ اور حالات
آر ایس ایف کے خلاف عالمی سطح پر دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ 30 جنوری کو خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ 2023 سے اکتوبر 2024 کے دوران دارفور میں آر ایس ایف سے وابستہ جنگجوؤں نے کم از کم 56 بچوں کو اغوا کیا، جس سے جنگی جرائم سے متعلق خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔








