ہم فرقہ واریت کی آتش فشاں پر ہیں، یہ آگ بھڑک اُٹھی تو کچھ باقی نہیں رہے گا، صحافی عاصمہ شیرازی
اسلام آباد - سانحے کی مذمت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ ایک اور سانحہ، مذمتیں اور بس! کئی بے گُناہ مارے گئے، آہیں اور سسکیوں میں تدفین کی گھسی پٹی خبریں۔ کوئی پوچھے اُن گھرانوں سے جن کے بچے اور بزرگ نماز پڑھنے گئے تھے اور اب اپنا جُرم پوچھتے نظر آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی جنگی تیاریاں، 7 مئی کو ریاستوں میں فرضی مشقوں کا حکم، فضائی حملوں کے سائرن اور شہری تربیت کی ہدایت کردی گئی۔
حکومت کی روایتی جوابدہی
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ سرکار کیا کرے گی؟ کم سے کم مذمت اور زیادہ سے زیادہ کوئی تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا جائے گا۔ کیا یونہی جنازے اُٹھتے رہیں گے؟ اس خطرے کو محسوس کیجئے کہ دہشت گرد اسلام آباد میں ہیں، اُن کے سہولت کار اور اُن کے پالنے والے بھی یہیں ہیں، تکفیری اور نفرت اُبھارنے والے بھی یہیں ہیں مگر اُن کے خلاف کاروائی نہیں کی جا رہی؟ ہم فرقہ واریت کی آتش فشاں پر ہیں۔ یہ آگ بھڑک اُٹھی تو کچھ باقی نہیں رہے گا۔
عاصمہ شیرازی کا موقف
ایک اور سانحہ، مذمتیں اور بس! کئی بے گُناہ مارے گئے، آہیں اور سسکیوں میں تدفین کی گھسی پٹی خبریں، کوئی پوچھے اُن گھرانوں سے جن کے بچے اور بزرگ نماز پڑھنے گئے تھے اور اب اپنا جُرم پوچھتے نظر آ رہے ہیں۔ سرکار کیا کرے گی؟ کم سے کم مذمت اور زیادہ سے زیادہ کوئی تحقیقاتی کمیشن قائم…
— Asma Shirazi (@asmashirazi) February 7, 2026








