سٹاف روم میں بیٹھے پروفیسر کو اگر یہ نہ یاد کرایا جاتا کہ آپ کی چوتھی سال میں اردو کی کلاس ہے تو وہیں بیٹھے خیالات کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے رہتے۔
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 51
وائس پرنسپل ہونے کے ناطے، اُن کی صوابدید میں تھا کہ وہ لڑکوں کو ہونے والے جرمانے معاف کردیں۔ اِس طرح کالج یونین والے اُن سے جرمانے معاف کروا کر لڑکوں میں اپنی دھاک بٹھاتے اور وائس پرنسپل کے رعب و دبدبہ میں اور اضافہ ہوجاتا۔ ایک بات پہ ہم سب حیران ہوتے تھے کہ پریکٹیکل کرتے وقت جب مشکل پیش آتی اور اُن سے مدد چاہتے تو وہ وہاں تھوڑا سا اِدھر اُدھر ہاتھ مارتے اور پریکٹیکل صحیح رزلٹ دینے لگتا۔
B.Sc امتحان 1953ء
کل 28 طالب علموں نے B.Sc کا امتحان 1953ء میں دیا اور صرف 3 طالب علم کامیاب ہوسکے۔ اُن تینوں میں اِس خادم کا نام بھی تھا۔ اُن تینوں میں بھی چونکہ میرا تیسرا نمبر تھا تو میں فخریہ کہا کرتا کہ جناب 1953ء کا B.Sc کا رزلٹ گواہ ہے کہ میں اُس سال کالج میں B.Sc میں تھرڈ آیا تھا۔
پروفیسر شور علیگ اور ایک شاعر
شعرو شاعری کا اُبال تو گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں سیکنڈ ائیر میں ہی آنے لگا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ نامراد تو "کورونا وائرس" کی طرح دن دُوگنا رات چوگنا پھیلتا جاتا ہے۔ نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ ایک رات نیو ہوسٹل گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں میں مقیم عبد الغفور بے خبرؔ نے غزل کہتے کہتے اپنے کانوں سے صبح کی اذان سنی۔
Optional اختیاری کتاب
ایف ایس سی میں پروموشن کے بعد جب Optional اختیاری کی بات آئی تو بے خبرؔ کی نظر پہلے ہی دیوان غالب پر تھی کہ بی ایس سی میں 20 نمبر کی Optional کتاب تھی۔ دیوان غالب اور پڑھانے والے شور علیگ۔
سٹاف روم میں پروفیسر شور علیگ
سٹاف روم میں بیٹھے پروفیسر شور علیگ صاحب کو اگر یہ نہ یاد کرایا جاتا کہ جناب آپ کی فورتھ ائیر میں اُردو کی کلاس ہے تو وہیں بیٹھے اپنے خیالات کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے رہتے۔ کلاس روم میں آتے تو سامنے میز پر رکھّا دیوان غالب اُٹھاتے اور کہیں سے بھی کھولتے اور ایک شعر پڑھتے اور پھر پڑھتے ہی دیوان تو میز پر ڈھیر کر دیتے اور اپنی نگاہیں کسی بھی سمت اختیار کرجائیں خواہ کمرے کی چھت ہو، پنکھا ہو، کسی لڑکے کا چہرہ ہو، بس سارا پیریڈ وہیں نظر جمائے اِس ایک شعر کی تشریح میں گذر جاتا اور پروفیسر صاحب کو کوشش کر کے بتانا پڑتا کہ جناب گھنٹی بج چکی ہے۔ پیریڈ ختم ہوگیا ہے۔ تب جا کر پروفیسر صاحب سنبھلتے اور کلاس روم سے نکل کر سٹاف روم میں جا بیٹھتے۔
شاعری کے جوکَس
مجھے بھی اپنی شاعری کے جوکَس بل نکالنے کی سُوجھی تو ایک دن ایک تازہ غزل لے کر پروفیسر صاحب کی خدمت میں حاضری دی کہ شرف شاگردی کا پروانہ دیں اور تازہ غزل برائے اصلاح قبول فرمائیں۔ پروفیسر صاحب نے مجھے بغور دیکھا تو تعجبّ بھرے لہجے میں میرا حدود اربعہ جاننا چاہا۔ میں نے دست بستہ عرض کی کہ خادم آپ کی بی ایس سی کی Optoinal Class کا ایک ناچیز طالب علم ہے۔ خیر غزل کو اپنی ایک پاکٹ میں سمیٹتے ہوئے وہ پھر ایک عالم بے خودی میں غرق تھے۔ میں رسماً دعا سلام کہہ کر واپس آگیا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








