ہم ایسی ہدایات جاری ہی کیوں کرتے ہیں جن پر عمل کرنا ناممکن ہو، خانہ پوری اور حلوہ پوری میں ہم سے زیادہ کوئی دوسرا ماہر ہو ہی نہیں سکتا
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 432
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی میڈیکل طالبعلم کا ایس سی او فورم میں مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ روایتی طب کا تجربہ
خورشید صاحب کی ترقی
حامد یعقوب کو کمشنر کا عہدے سنبھالے کچھ دن ہی بیتے تھے کہ اسی دوران خورشید صاحب کی ترقی گریڈ 17 میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہو گئی۔ یہ ترقی انہیں ہیڈ کوارٹرز لاہور میں خالی سیٹ کے خلاف ملی تھی، لہٰذا انہیں لاہور ہی جوائن کرنا تھا۔ اگر وہ لاہور چلے جاتے تو الیکشن کے کام میں بڑی مشکل پیش آتی۔ ان کی معاونت ہمیں الیکشن کے ہر مرحلے میں درکار تھی۔ وجہ بڑی سادہ تھی کہ وہ مقامی تھے، تمام حالات سے واقف تھے، عرصۂ دراز سے یہی پوسٹڈ تھے اور سب سے بڑھ کر مخلص، قابل اور سمجھدار ماتحت کسی بھی افسر کے لئے نعمت سے کم نہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترامیم کے لیے نمبرز گیم: بیرون ملک موجود حکومتی اراکین کو واپس آنے کی ہدایت
کمشنر کا اقدام
ایک روز سیکرٹری بلدیات کا فون کمشنر کو آیا۔ انہوں نے الیکشن کی تیاری کے بارے میں معلومات لینے کے بعد کمشنر سے پوچھا؛ "کوئی مسئلہ تو نہیں؟" کمشنر نے ان سے خورشید صاحب کو بہاول پور ہی رہنے کی درخواست کی جو انہوں نے منظور کر لی۔ اس طرح خورشید صاحب کاغذوں میں لاہور اور عملی طور پر بہاول پور ہی رہے، یوں ہمارا الیکشن خوش اسلوبی سے گزر گیا۔ بلکہ الیکشن کی رپورٹس کے حوالے سے بہاول پور پنجاب بھر میں پہلے نمبر پر رہا۔
یہ بھی پڑھیں: خطیب جمعہ کے خطبوں میں جذبہ جہاد کو فروغ دیں: مفتی تقی عثمانی
فافن کے سیاپے
مئی 2013 کے انتخابات کے دوران ایک پرائیویٹ تنظیم "فافن" نے الیکشن پراسس اور ضابطہ اخلاق کے حوالے سے بڑا ایکٹو رول ادا کیا تھا۔ روزانہ ہر ڈویژن میں ہونے والی خلاف ورزیوں پر سینکڑوں رپورٹس آتی اور شام کو تصویری ثبوت کے ساتھ ان کا جواب دینا ہوتا تھا۔ یہ ممکن کام نہ تھا اور کمشنر بھی اس سے تنگ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ میں نمبر گیم دلچسپ مرحلے میں داخل، حکمران اتحاد 2 ووٹ سے محروم
لوکل گورنمنٹ فارمولا
کمشنر ایک روز اپنی دفتر میں انہی خلاف ورزیوں پر بات کر رہے تھے۔ آر پی او بہاول پور بھی موجود تھے۔ کمشنر نے کہا؛ "یہ فافن کی رپورٹ کا جواب دینا تکلیف دہ ہے۔ یار! لوکل گورنمنٹ والا فارمولا لگاؤ۔ وہاں کسی نے خاک رپورٹ پڑھنی یا دیکھنی ہے۔" لوکل گورنمنٹ کا فارمولا یہ تھا؛ "ایک ہی جگہ کی دو تین تصاویر مختلف زاویوں سے بناؤ اور حسب ضرورت انہی تصاویر کو رپورٹس کے ساتھ بھیجتے رہو۔" ہوم ڈیپارٹمنٹ کا ایک ونگ پورے پنجاب کو مانیٹر کر رہا تھا۔ ہماری یہ پالیسی کامیاب رہی۔ یقیناً پورے پنجاب سے روزانہ ہزاروں رپورٹس آتی ہوں گی، بس یہ ونگ یہی دیکھ سکتا ہوگا کہ 36 اضلاع کی رپورٹس آ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قتل کیس، راولپنڈی کی عدالت نے مجرم عمران خان کو سزا ئے موت سنا دی
انتخابات کا سرپرائز
2013ء کے انتخابات میں اصل مقابلہ عمران خان کی تحریک انصاف اور نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) میں تھا۔ ووٹرز کا ٹرینڈ اور عوام کی تحریک انصاف کے جلسوں میں بھرپور شرکت دیکھ کر ہم افسران کو قوی امید تھی کہ تحریک انصاف یہ انتخابات جیتے گی۔ الیکشن کے روز صبح 9 بجے ایک راؤنڈ لگا کر ہم سب کمشنر دفتر چلے آئے، جہاں کمیٹی روم میں ایکشن سیل بنا رکھا تھا۔ ہم سب کولیگز بیٹھے انتخابات اور اس کے متوقع نتائج کے بارے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے۔ (جاری ہے)
حقوق کی عدم ضمانت
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








