20 روپے رشوت کا الزام، 30 سال جیل کاٹنے والا بےگناہ شخص رہا ہوتے ہی مرگیا
رہا ہونے کے بعد کا افسوسناک واقعہ
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی ریاست گجرات میں 20 روپے رشوت لینے کے الزام میں 30 سال جیل کاٹنے کے بعد بے گناہی ثابت ہونے پر رہا ہونے والا شخص اگلے روز ہی چل بسا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی وفد نے اقوام متحدہ کے ساتھ انگیج ہی نہیں کیا، حنا ربانی کھر کا تہلکہ خیز انکشاف
فلم Shawshank Redemption کی یاد
1994 کی ہالی ووڈ فلم The Shawshank Redemption میں بھی ایک بے قصور شخص طویل عرصہ جیل میں گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بارسلونا میں چوری ہونے والی گھڑی کتنی پرانی اور اس کی مالیت کتنی تھی، عبدالقادر گیلیانی نے صحافیوں سے گفتگو میں بتا دیا
بے گناہی کا اعلان
گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے 4 فروری کو بری کیے جانے کے بعد اس شخص نے کہا کہ میری زندگی سے داغ مٹ گیا۔ اگر اب خدا مجھے اٹھا بھی لے تو مجھے کوئی افسوس نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بزرگ چینی خاتون کو بینک نے بیمار ہونے کے باوجود زبردستی بلالیا، گیٹ پر ہی جان نکل گئی
مقدمے کی تفصیلات
1996 میں احمد آباد میں تعینات پولیس کانسٹیبل بابو بھائی پرجاپتی پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے 20 روپے رشوت لی تھی۔ ان پر انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس حملہ کیس میں عمران خان طلب، شبلی فراز کے وارنٹ گرفتاری جاری
عدالت کا عمل
1997 میں سیشن کورٹ میں چارج شیٹ دائر کی گئی، جبکہ 2002 میں باقاعدہ الزامات عائد کیے گئے۔ 2003 میں گواہوں کے بیانات شروع ہوئے اور 2004 میں سیشن کورٹ نے پرجاپتی کو چار سال قید اور 3,000 روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: جعلی ڈگری پر امریکا جانے والی خاتون کو 6 سال قید کی سزا
ہائی کورٹ کا فیصلہ
بابوبھائی پرجاپتی نے اس فیصلے کو گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، مگر ان کی اپیل 22 برس تک زیرِ التوا رہی۔ بالآخر 4 فروری 2026 کو ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے انہیں بے گناہ قرار دے دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گواہوں کے بیانات میں سنگین تضادات موجود ہیں اور استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
یہ بھی پڑھیں: دلجیت کے کنسرٹ میں دپیکا کی سرپرائز انٹری نے میلہ لوٹ لیا
وکیل کی رائے
پرجاپتی کے وکیل نتن گاندھی نے عدالت کو بتایا کہ پورا مقدمہ محض شبہات کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا
دکھ بھرا اختتام
فیصلے کے بعد بابو بھائی پرجاپتی نے اپنے وکیل کے دفتر میں دل کو چھو لینے والے الفاظ کہے اور پھر گھر واپس چلا گیا، تاہم افسوسناک طور پر اگلے ہی دن وہ طبعی موت (دل کا دورہ) پڑنے سے انتقال کرگیا۔
ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ کاش وہ کچھ دن اور زندہ رہتے تاکہ اپنی بے گناہی کے بعد کی زندگی دیکھ پاتے۔
وکیل کی بات چیت
پرجابتی کے وکیل نے کہا کہ کل جب وہ میرے دفتر آئے تو بہت خوش تھے کیونکہ وہ بری ہو چکے تھے۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ حکومت سے اپنے تمام واجبات کے لیے درخواست دیں۔ اگلے دن جب میں نے فون کیا تو بتایا گیا کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے۔








