افغانستان میں سرگرم 20 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں دنیا کے لیے خطرہ ہیں: بلال اظہر کیانی
ترجمان حکومت کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ 20 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے کام کر رہی ہیں اور یہ تنظیمیں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس سرفراز ڈوگر نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ حلف اٹھا لیا
عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں خطاب
روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ریاست کو حق ہے کہ اپنے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے، پاکستان اب سخت اقدامات کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی نتیجہ خیز بات چیت کے لیے تیار ہے۔ افغانستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مثبت اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر قومی اسمبلی نے مذاکرات کے حوالے سے بیرسٹر گوہر کی درخواست قبول کرلی
انسانی بنیادوں پر امداد کا خدشہ
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد طالبان رجیم کی مضبوطی پر خرچ ہو رہی ہے۔ ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، مختلف آپریشنز میں مارے جانے والے متعدد افغانی دہشت گرد تھے، ٹی ٹی پی کو محفوظ ٹھکانے افغانستان سے فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیان میں ٹائپنگ کی غلطی ہوئی، وی پی این کو غیر شرعی نہیں کہا، راغب نعیمی کی وضاحت
افغان مہاجرین کی واپسی
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے چار دہائیوں تک افغانیوں کے لیے اپنے دروازے کھولے رکھے اور دل سے افغان بہن بھائیوں کی مدد کی، تاہم اب ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں کہ ان حالات میں مدد جاری رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھائی جان بہت باغ و بہار انسان تھے،پیسے کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے ، میں نے انہیں اپنے برخوردار کی سفارش کی۔ کہنے لگے؛”میری فیس“
پاکستان کا انسانی تعاون
وزیر مملکت خزانہ نے کہا کہ افغان شہریوں کو مرحلہ وار واپس بھیجا جا رہا ہے اور کوئی ملک بھی بغیر دستاویزات یا رجسٹریشن کے دوسرے ملک کے شہریوں کو نہیں رکھ سکتا۔
دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ پاکستان انسانی بنیادوں پر مدد کے لیے تیار ہے لیکن افغان حکومت کو دہشت گردی روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔








