ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جاسکتا، رانا ثناء اللہ
ماضی کا اثر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جا سکتا، جب تک یہ نشاندہی نہیں ہوگی کہ بلوچستان کا بحران کیا ہے، مسئلے کا پتا نہیں چلے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان عالمی آئی ٹی حب کے طور پر ابھر رہا ہے: صوبائی وزیر سندھ علی راشد
بلوچستان کے بحران
روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے 2 بحران ہیں، ہم غلطی کر رہے ہیں کہ دونوں بحرانوں کو ایک ہی طرح حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میں نے ایم ایس دھونی سے پچھلے 10سالوں سے بات نہیں کی، ہر بھجن سنگھ کا انکشاف
تشویش کی وجوہات
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بچوں اور فیملیوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر گولیاں ماری جاتی ہیں۔ کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ کسی نے کہا کہ یہ بلوچستان کے لوگ کراتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں، جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے بیرسٹر سیف کو اہم ٹاسک سونپ دیا
مثالوں کی کمی
انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں بلوچستان کے لوگ اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں، کوئی ایک مثال دے دیں کہ کسی نے پنجاب میں کسی بلوچ کو برا بھلا کہا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: خبردار! اب زیادہ دھواں دینے والی گاڑیوں کو جرمانہ کیا جائے گا، آج ہی اپنی گاڑی بالکل مفت ٹیسٹ کروائیں
انسانیت کی پامالی
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں، کیا جعفر ایکسپریس کے واقعے کے روز بھارتی میڈیا پر جشن کا سماں نہیں تھا؟
امن کی ضرورت
ان کا مزید کہنا تھا کہ امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، بلوچستان کا امن اور ترقی ترجیح ہے۔








