ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جاسکتا، رانا ثناء اللہ
ماضی کا اثر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جا سکتا، جب تک یہ نشاندہی نہیں ہوگی کہ بلوچستان کا بحران کیا ہے، مسئلے کا پتا نہیں چلے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مزارِ اقبال پر گارڈز تبدیلی کی تقریب، پاک بحریہ نے فرائض سنبھال لیے
بلوچستان کے بحران
روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے 2 بحران ہیں، ہم غلطی کر رہے ہیں کہ دونوں بحرانوں کو ایک ہی طرح حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آپ دوسروں کے بغیر کچھ بھی نہیں، وہ رویہ اپنائیں جس میں اپنے آپ پر اعتماد، یقین، بھروسے اور صلاحیت کے استعمال میں مہارت کا اظہار ہو۔
تشویش کی وجوہات
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بچوں اور فیملیوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر گولیاں ماری جاتی ہیں۔ کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ کسی نے کہا کہ یہ بلوچستان کے لوگ کراتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں، جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کی صنعتی کارکنوں کے لیے 720 فلیٹس کی قرعہ اندازی
مثالوں کی کمی
انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں بلوچستان کے لوگ اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں، کوئی ایک مثال دے دیں کہ کسی نے پنجاب میں کسی بلوچ کو برا بھلا کہا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ
انسانیت کی پامالی
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں، کیا جعفر ایکسپریس کے واقعے کے روز بھارتی میڈیا پر جشن کا سماں نہیں تھا؟
امن کی ضرورت
ان کا مزید کہنا تھا کہ امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، بلوچستان کا امن اور ترقی ترجیح ہے۔








