ملک میں دہشت گردی کی لہر پریشان کن ہے، انتشار کے اسباب اندرونی و بیرونی عناصر ہیں: حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی کی تشویش
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کی حالیہ لہر پریشان کن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے کس طرح پاکستان کی بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرانے میں مدد کی؟ برطانوی میڈیا نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا
اجلاس کے دوران خطاب
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے تین روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 8 فروری کے دھاندلی زدہ انتخابات کو 2 سال مکمل ہو گئے ہیں، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کی لہر انتہائی تشویش ناک ہے، اور اس انتشار کے اسباب میں دونوں اندرونی اور بیرونی عناصر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہر تقریر کا اختتام اس فقرے پر ہوتا”آپ گواہ رہیں‘ میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ بطور مسلم لیگی پیدا ہوا، ہمیشہ رہا اور مسلم لیگی مرا“یہ کتبہ میری قبر پر لکھ دیا جائے
وادی تیراہ کی حالت
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ وادی تیراہ کی صورت حال بہت پریشان کن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو نکالنے سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوگا، لہذا حکمرانوں، اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوہستان میں مالی سکینڈل: انٹرنل انکوائری 3 دن میں مکمل کرنے کی ہدایت
سیاسی مسائل پر موقف
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے مجوزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کریں گے، اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو فون کیا ہے، ان سے جلد ملاقات بھی ہوگی۔
حماس کی پالیسی پر تبصرہ
حافظ نعیم الرحمان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حماس کی پالیسی قابل ستائش ہے، اور اسلامی تحریکوں کو اس سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔








