پاکستان دشمنی کی پالیسی ناکام ہوگئی، ششی تھرور کا اعتراف
بھارتی سیاستدان ششی تھرور کی تنقید
نئی دہلی (آئی این پی) بھارتی سیاستدان اور رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور نے پاکستان کے خلاف مستقل دشمنی کی بھارتی پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکمتِ عملی ناکام ہو چکی ہے اور اس سے خطے میں امن کے امکانات کمزور ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی کی تجویز
پالیسی کی ناکامی
انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں ششی تھرور نے لکھا کہ پاکستان کو مستقل دشمن بنا کر رکھنے کی پالیسی کو داخلی سیاست میں فائدے کے لئے استعمال کیا گیا، تاہم اس کا عملی طور پر کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا
بات چیت کی ضرورت
انہوں نے لکھا کہ پاکستان سے بات چیت کو شکست سمجھنا ایک غلط سوچ ہے اور مذاکرات کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ اپنے کالم میں انہوں نے بی جے پی کی سخت اور تصادمی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس رویے نے نہ صرف خطے کو غیر محفوظ بنایا بلکہ بھارت کے سفارتی مفادات کو بھی نقصان پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید کا کورٹ مارشل ایک قانونی اور عدالتی عمل ہے، اس پر کوئی فیصلہ آئے گا تو آپ کو بتائیں گے،ڈی جی آئی ایس پی آر
عالمی سطح پر پاکستان کی حیثیت
ششی تھرور کا کہنا تھا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی کوششیں بھی کامیاب ثابت نہیں ہوئیں اور یہ پالیسی خود فریبی کے مترادف ہے۔
بھارتی سیاسی منظر نامہ
سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں اب ایک سنجیدہ طبقہ ابھر رہا ہے جو پاکستان کے ساتھ مکالمے اور مذاکرات کا حامی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ششی تھرور کا موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی سیاست میں پاکستان مخالف بیانیے پر داخلی سطح پر سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔








