پاکستان دشمنی کی پالیسی ناکام ہوگئی، ششی تھرور کا اعتراف
بھارتی سیاستدان ششی تھرور کی تنقید
نئی دہلی (آئی این پی) بھارتی سیاستدان اور رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور نے پاکستان کے خلاف مستقل دشمنی کی بھارتی پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکمتِ عملی ناکام ہو چکی ہے اور اس سے خطے میں امن کے امکانات کمزور ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، 13 ہزار 300 روپے مہنگا
پالیسی کی ناکامی
انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں ششی تھرور نے لکھا کہ پاکستان کو مستقل دشمن بنا کر رکھنے کی پالیسی کو داخلی سیاست میں فائدے کے لئے استعمال کیا گیا، تاہم اس کا عملی طور پر کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: غیرملکی شہریوں کے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ڈیٹا چوری میں ملوث ملزمان گرفتار
بات چیت کی ضرورت
انہوں نے لکھا کہ پاکستان سے بات چیت کو شکست سمجھنا ایک غلط سوچ ہے اور مذاکرات کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ اپنے کالم میں انہوں نے بی جے پی کی سخت اور تصادمی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس رویے نے نہ صرف خطے کو غیر محفوظ بنایا بلکہ بھارت کے سفارتی مفادات کو بھی نقصان پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: اڑتی دھول اورانجن کے دھوئیں سے جو چیز مسافروں کے چہرے پر چپکتی اس کا رنگ پیا کے چڑھے پیار کے رنگ سے بھی کہیں زیادہ گہرا ہوتا
عالمی سطح پر پاکستان کی حیثیت
ششی تھرور کا کہنا تھا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی کوششیں بھی کامیاب ثابت نہیں ہوئیں اور یہ پالیسی خود فریبی کے مترادف ہے۔
بھارتی سیاسی منظر نامہ
سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں اب ایک سنجیدہ طبقہ ابھر رہا ہے جو پاکستان کے ساتھ مکالمے اور مذاکرات کا حامی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ششی تھرور کا موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی سیاست میں پاکستان مخالف بیانیے پر داخلی سطح پر سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔








