غزہ کی صورتحال کے بارے میں پاکستانی عوام کیا رویہ رکھتے ہیں؟۔؟گیلپ نے عوامی سروے کے نتائج جاری کر دیئے
سروے کا پس منظر
اسلام آباد( ڈیلی پاکستان آن لائن ) گیلپ پاکستان (گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کا الحاق یافتہ ادارہ) نے ایک قومی سطح کے نمائندہ عوامی سروے کے نتائج جاری کیے ہیں جن کا مقصد غزہ کی صورتحال کے بارے میں پاکستانی عوام کے رویوں کا جائزہ لینا تھا۔ اس میں حالیہ پیش رفت سے آگاہی، جنگ بندی کے بعد خوراک اور سیکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں تاثر، غزہ میں پاکستانی فوجی دستے بھیجنے کے بارے میں رائے، اور حال ہی میں قائم ہونے والے غزہ کے’’بورڈ آف پیس‘‘ میں پاکستان کی شرکت سے متعلق خیالات شامل ہیں۔ یہ سروے 15 جنوری سے 3 فروری 2026 کے درمیان کمپیوٹر اسسٹڈ ٹیلی فون انٹرویوز (CATI) کے ذریعے 1,600 بالغ پاکستانی شہریوں سے کیا گیا۔ اس کا مارجن آف ایرر 95 فیصد اعتماد کی سطح پر تقریباً 2–3 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: براہموس اسٹوریج سائٹ کو تباہ کرنے کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی
غزہ کی صورتحال سے عوامی آگاہی
غزہ کی صورتحال کے بارے میں عوامی آگاہی نمایاں طور پر بلند ہے۔ پاکستان کے نصف سے زیادہ شہری (54فیصد) بتاتے ہیں کہ وہ فلسطین/غزہ سے متعلق پیش رفت پر باقاعدگی سے نظر رکھتے ہیں، جو اس مسئلے میں مسلسل عوامی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صرف 7 فیصد زمین زیرکاشت رہ گئی، ایشیائی ترقیاتی بینک نے بلوچستان میں پانی کی شدید قلت کی نشاندہی کردی
جنگ بندی کے بعد حالات پر ملے جلے خیالات
غزہ میں جنگ بندی کے بعد خوراک اور سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کے بارے میں رائے منقسم ہے۔ ایک بڑی تعداد (43فیصد) سمجھتی ہے کہ حالات کسی حد تک بہتر ہوئے ہیں، جبکہ 26فیصد کے نزدیک کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ یہ نتائج واضح اتفاقِ رائے کے بجائے محتاط امید کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپیس ایکس کا مقابلہ، ایمیزون نے بھی انٹرنیٹ سیٹلائٹس خلا میں بھیج دئیے
پاکستانی فوجی دستے بھیجنے کی حمایت
تقریباً تین چوتھائی پاکستانی (73فیصد) مسلم ممالک پر مشتمل امن نگرانی مشن کے حصے کے طور پر غزہ میں پاکستانی فوجی دستے بھیجنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں، جن میں 55٪ کی حمایت مضبوط ہے۔ تاہم یہ حمایت کچھ شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔ عوام کے نزدیک اہم ترین تقاضے یہ ہیں:
- مسلم ممالک کے مشترکہ اتحاد کے تحت تعیناتی (64فیصد)
- فلسطینی قیادت کی باضابطہ درخواست (60 فیصد)
- اقوامِ متحدہ کی منظوری (57فیصد)
امریکہ یا چین جیسی بڑی عالمی طاقتوں کی منظوری اہمیت میں سب سے نیچے ہے، جسے 47فیصد اہم سمجھتے ہیں۔ یہ اس امر کی علامت ہے کہ عوام بڑی طاقتوں کی تائید کے بجائے مسلم دنیا یا اقوامِ متحدہ کی کثیرالجہتی قانونی حیثیت کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے جاسوسی کے الزام میں ایک اور شخص کو سزائے موت دیدی
خطرات کا احساس
پاکستانی فوج کی تعیناتی سے جڑے خطرات کے بارے میں عوامی آراء ملی جلی مگر تشویشناک نہیں ہیں۔ تقریباً 27فیصد پاکستانی فوجیوں کی جانوں کو زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں، جبکہ 32فیصد کے نزدیک خطرہ کم ہے۔ صرف 20فیصد یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی تعیناتی پاکستان کو کسی وسیع جنگ میں گھسیٹ سکتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر تصادم کے خدشات محدود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایم پی اے گل ابراہیم کی گاڑی کھائی میں گرگئی
فوجی اقدام بمقابلہ سفارت کاری
جب مجموعی حکمتِ عملی کے انتخاب پیش کیے گئے تو 44فیصد پاکستانیوں نے فوجی اقدام کو ضروری قرار دیا، جبکہ 33فیصد نے سفارت کاری اور انسانی امداد کو بہتر راستہ سمجھا۔ صرف 7فیصد کی رائے تھی کہ پاکستان کو اس معاملے سے دور رہنا چاہیے۔ یہ نتائج بتاتے ہیں کہ اگرچہ فوجی شمولیت کو سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے، لیکن غیر فوجی آپشنز بھی نمایاں عوامی تائید رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان میں بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر ڈارک ویب پر فروخت کرنے والے 2 ملزمان گرفتار
’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کی رائے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت قائم ہونے والے غزہ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں پاکستان کی شمولیت کے بارے میں عوامی رائے میں خاصی غیر یقینی پائی جاتی ہے۔ 34فیصد اس شمولیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں، 23فیصد ناخوش ہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد (39فیصد) غیر یقینی یا لاعلم ہے۔
نتیجہ
مجموعی طور پر نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ غزہ کے لیے عوامی ہمدردی مضبوط ہے اور پاکستان کے کردار — بشمول فوجی شمولیت — کی وسیع حمایت موجود ہے، بشرطیکہ یہ کردار قانونی، کثیرالجہتی اور مسلم و اقوامِ متحدہ کے اداروں کے تحت ہو۔ ساتھ ہی آبادی کے قابلِ ذکر حصے محتاط بھی ہیں اور سفارت کاری، انسانی امداد اور خطرات میں کمی کے لیے واضح شرائط پر زور دیتے ہیں۔ غزہ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے بارے میں عوامی غیر یقینی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کے کردار اور مقاصد کے بارے میں مزید واضح اور مؤثر ابلاغ کی ضرورت ہے۔








