اگلا پروگرام درّہ خیبر کا تھا، سنگل ریل کی پٹری کا سفر کافی دلچسپ تھا، ہاتھوں میں کلاشنکوفیں پکڑے پٹھان دھڑلے سے ریل میں داخل ہوتے۔
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 52
سٹاف روم میں دوبارہ ملاقات
ایک ہفتہ بعد میں دوبارہ سٹاف روم میں گیا اور اپنی غزل کی جو تمہید باندھی تو پروفیسر صاحب ہکّا بکا اِدھر اُدھر دیکھنے لگے اور پھر سے میرا حدود اربعہ جاننا چاہا۔ میں نے جو دہرایا تو اُن کے چہرے پر کوئی تاثر نہ اُبھرا اور اجنبیّت سے کہنے لگے۔ اُس پُرزے کا کیا بتاؤں کدھر گیا، ہوا میں تحلیل ہوگیا ہے اِسی طرح ہمّت نہ ہارتے ہوئے پھر بھی دو تین بار کوشش کی کہ شاید کام آگے چل نکلے گا لیکن ناکامی مقدّر ٹھہری۔
حبیب جالب کی شاعری
اُدھر لائل پور (اب فیصل آباد) میں نوجوان شاعر حبیب جالب اُس وقت ہونے والے مسلم لیگ کے دھوبی گھاٹ کے جلسوں میں اپنی غزلیں سنانے کے قابل ہوچکے تھے اور خادم صرف اُن نوجوان کو ہی متوجّہ کر پایا جو جلسے کے لیے ابتدائی سازو سامان لگانے میں لگے ہوئے اور Testing, Testing کا شور کرتے۔ اُن میں ایک عبد الغفور بے خبرؔ بھی ہوتا جو اُن کو Testing کے دوران اپنی تازہ غزل سنا رہا ہوتا۔
شمالی علاقہ جات کی سیر
1953 ہر سال کی طرح بی ایس سی فائنل ائیر کے طالب علموں کو 2 پروفیسرز کے ہمراہ صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخواہ) میں سیر وسیاحت کے لیے بھیجا گیا۔ ہمارا پہلا پڑاؤ پشاور شہر تھا۔ دوپہر کو کھانے کا وقت ہوچکا تھا۔ لہٰذا ہم پانچ ہمجولی پشاور کے ”قصہ خوانی بازار“ کے ایک عام سے ہوٹل میں جا بیٹھے اور کھانے کا آرڈر دے دیا۔ جب کھانا لگا تو سامنے بڑے گوشت کے بڑے بڑے پیس پلیٹوں کی زینت تھے اور اُن سے اٹھنے والی بھاپ چھت کو چھو رہی تھی۔ سبھی نے چند لقمے جو لیے، ذائقہ اچھا نہ تھا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ دام چکائے اور باہر جا کر پھر مال روڈ پر ایک صاف ستھرے ہوٹل میں کھانا کھایا۔
سیر کا اگلا پروگرام
دوسرے دن ناشتہ کے بعد اساتذہ کرام کی نگرانی میں پشاور کا ”سینی ٹورازم“ دیکھنے کے لیے نکل پڑے۔ نا جانے کوئی اور راستہ اُدھر نہ جاتا ہوگا کہ ہمیں وہاں واقع ”بازار حسن“ میں سے گذار کر لے گئے۔ ہم بھی آنکھیں رکھتے تھے۔ دائیں بائیں پشاور کا حسن و جمال وہاں بالکونیوں میں ایک سج دھج کے ساتھ دعوتِ نظارہ دے رہا تھا۔ یہ چکا چوند چند منٹ بعد غائب ہوئی تو پھر ہم عام سے ہوشمند طالب نظر آنے لگے۔
درّہ خیبر کی جانب سفر
اگلا پروگرام درّہ خیبر کا تھا۔ سنگل ریل کی پٹری کا یہ سفر بھی کافی دلچسپ تھا۔ ٹکٹ لے کر ٹرین میں بیٹھ گئے۔ راستے میں آگے جا کر قبائلی علاقے میں ہاتھوں میں کلاشنکوفیں پکڑے پٹھان دھڑلے سے ریل میں داخل ہوتے۔ یاد رہے اِس علاقے میں ریل کا کوئی ٹکٹ نہیں۔ بلا کرایہ سفر ہوتا تھا۔ آگے جا کر پہاڑی علاقہ میں ٹرین ایک جگہ آگے جاتی۔ رُک کر پیچھے چڑھائی چڑھنے لگتی۔ چلتے چلتے جو پھر رُکتی تو پھر نیچے کی طرف تو پھر آگے کو چل دی۔ یہ اِس لیے کیا گیا کہ وہاں ٹرین سیدھی لے جائی ہی نہ جا سکتی تھی۔ اس لیے ٹیکنیکل طریقے سے اِس مسئلے کو حل کیا۔ آگے جناب آگیا درّہ خیبر وہاں اُدھر چکّر لگایا۔ اور پھر اُسی ٹرین میں واپسی ہوئی۔
اسلامیہ ہائی سکول مردان میں پڑاؤ
اِس گروپ کا دوسرا پڑاؤ اسلامیہ ہائی سکول مردان میں تھا۔ وہاں کی انتظامیہ نے جو ”سپیشل“ نان اور قہوہ سے خاطر مدارت کی تو وہ بھلائے نہ بھول سکی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








