منگتے کبھی بھی مرضی کے فیصلے نہیں کر سکتے، ملک کی بہتری تب تک ممکن نہیں جب تک عوامی رائے کا احترام نہیں ہوتا، جمہوریت کی کہانی نا خوشگوار رہی ہے

مصنف کی معلومات

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 433

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ واضح بیان کہ کشمیر کا کوئی سودا ممکن نہیں، کشمیری عوام کے لیے ایک نوید ہے: کشمیر کمیٹی جدہ

مہم: "اس دور کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے"

اس ملک کی بہتری تب تک ممکن نہیں جب تک عوامی رائے کا احترام نہیں ہوتا۔ غلط طریقوں سے مرضی کی حکمتیں بنوا کر وقت تو گزر سکتا ہے، ملک چلایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی سنوارا جا سکتا ہے۔ ایسی حکومتیں کبھی بھی عوامی مفاد میں پالیسیز نہیں بنا سکتیں کیونکہ وہ عوام کی اصل نمائندہ ہوتی ہی نہیں ہیں۔ منگتے کبھی بھی مرضی کے فیصلے نہیں کر سکتے ہیں۔ مقبول عوامی لیڈر کو "تاروں والے" پسند نہیں کرتے۔ یہاں مقبولیت نہیں، قبولیت کا نام جمہوریت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں ایف آئی اے کا پولیس کو بھیجا گیا جواب سامنے آگیا

پاکستانی سیاست، عدلیہ اور تاریخ

پاکستانی سیاست کا المیہ رہا ہے کہ جب ہمارے سیاست دان کسی دوسرے سیاسی قدآور شخصیت کا مقابلہ سیاست کے میدان میں نہیں کر سکتے تو مل کر اس کے خلاف محاذ بنا لیتے ہیں۔ اس محاذ میں وہ ان تمام فریقین کو بھی اکٹھا کر لیتے ہیں جن کے مفادات ایک جیسے ہوں۔ ان میں صحافی، افسر شاہی، سیاسی بونے اور کچھ کھلونے بھی مل جاتے ہیں۔ اس اکیلے شخص کے خلاف یہ مل کر اس کی بدنامی کی، اس کی کردار کشی کی مہم چلاتے ہیں۔ "موٹو" ہوتا ہے؛ "اتنا جھوٹ بولو کہ سچ لگنے لگے۔"

ایسا معاملہ میری یاد داشت کے مطابق سب سے پہلے میرے زمانہ طالب علمی میں پیش آیا جب تمام سیاسی جماعتیں آئی جے آئی کی صورت بھٹو کی پیپلز پارٹی کے خلاف اکٹھی ہوئیں۔ یہ 9 ستارے مل کر بھی اس اکیلے شخص کا مقابلہ نہیں کر سکے تھے۔ لہٰذا اسے منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کیا اور پھر جس بھونڈے انداز سے یہ کام کیا کہ پھانسی چڑھ جانے والی کی روح لاکھوں پاکستانیوں کے جسموں میں ہیول ہو گئی۔ آج بھی اُس کا ہیولہ پاکستانی سیاست دانوں کو ڈراتا رہتا ہے۔ گو اس ہیولے کی شدت بڑی حد تک زرادری نے کم کر دی ہے۔

اس کے بد ترین دشمن بھی اس کے عدالتی قتل کا نوحہ پڑھتے ہیں۔ اس کی بیٹی بی بی کے ساتھ جو ظلم کا سلوک ہوا، آفرین اس بیٹی کی وہ سب کچھ برداشت کر گئی۔ اسے مارنے والے بھی اس کے باپ کی طرح گمنام ہو گئے اور جبکہ باپ بیٹی آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نائیک سیف علی شہید نشان حیدر کو سروس چیفس کا خراج عقیدت

پاکستان میں جمہوریت کا حادثہ

پاکستان میں جمہوریت کی کہانی تکلیف دہ، دکھ بھری اور ناخوشگوار رہی ہے۔ پاکستان ٹوڑنے میں بھی فوج کا نمایاں کردار تھا اور ملک ٹوٹنے کے بعد اس بچے کچھے ملک میں جو نام نہاد جمہوریت تھی اسے بھی گود میں لے لیا۔ گود میں اٹھائے بچے کی طرح اس جمہوریت کو کھیلاتی رہی، جھولا تی رہی۔ نتیجہ نام کی جمہوریت دراصل آمریت ہی تھی۔ پرویز مشرف نے ایک بار کہا تھا، "ہمیں کنٹرولڈ جمہوریت سوٹ کرتی ہے۔"

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا ہائی کمیشن کا اہم انتباہ: جعلی واٹس ایپ نمبر سے فراڈ کی کوشش

تاریخی تسلسل اور اقتدار

ہر دور میں ہوتی رہی طاقت کی پرشتش
ہر دور یز یدوں کا طرف دار رہا ہے
ہر دور کے آقا غلام ابن غلام
ہر ایک عہد کی تاریخ چند سودائی

(جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...