منگتے کبھی بھی مرضی کے فیصلے نہیں کر سکتے، ملک کی بہتری تب تک ممکن نہیں جب تک عوامی رائے کا احترام نہیں ہوتا، جمہوریت کی کہانی نا خوشگوار رہی ہے
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 433
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا 9مئی کیسز میں پارٹی رہنماؤں کو سزاؤں کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان
مہم: "اس دور کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے"
اس ملک کی بہتری تب تک ممکن نہیں جب تک عوامی رائے کا احترام نہیں ہوتا۔ غلط طریقوں سے مرضی کی حکمتیں بنوا کر وقت تو گزر سکتا ہے، ملک چلایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی سنوارا جا سکتا ہے۔ ایسی حکومتیں کبھی بھی عوامی مفاد میں پالیسیز نہیں بنا سکتیں کیونکہ وہ عوام کی اصل نمائندہ ہوتی ہی نہیں ہیں۔ منگتے کبھی بھی مرضی کے فیصلے نہیں کر سکتے ہیں۔ مقبول عوامی لیڈر کو "تاروں والے" پسند نہیں کرتے۔ یہاں مقبولیت نہیں، قبولیت کا نام جمہوریت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو منہ توڑ جواب دیا،دوست ممالک کا شکریہ :گورنر پنجاب کی ترکیہ اور آذربائیجان کے سفیروں سے ملاقات میں گفتگو
پاکستانی سیاست، عدلیہ اور تاریخ
پاکستانی سیاست کا المیہ رہا ہے کہ جب ہمارے سیاست دان کسی دوسرے سیاسی قدآور شخصیت کا مقابلہ سیاست کے میدان میں نہیں کر سکتے تو مل کر اس کے خلاف محاذ بنا لیتے ہیں۔ اس محاذ میں وہ ان تمام فریقین کو بھی اکٹھا کر لیتے ہیں جن کے مفادات ایک جیسے ہوں۔ ان میں صحافی، افسر شاہی، سیاسی بونے اور کچھ کھلونے بھی مل جاتے ہیں۔ اس اکیلے شخص کے خلاف یہ مل کر اس کی بدنامی کی، اس کی کردار کشی کی مہم چلاتے ہیں۔ "موٹو" ہوتا ہے؛ "اتنا جھوٹ بولو کہ سچ لگنے لگے۔"
ایسا معاملہ میری یاد داشت کے مطابق سب سے پہلے میرے زمانہ طالب علمی میں پیش آیا جب تمام سیاسی جماعتیں آئی جے آئی کی صورت بھٹو کی پیپلز پارٹی کے خلاف اکٹھی ہوئیں۔ یہ 9 ستارے مل کر بھی اس اکیلے شخص کا مقابلہ نہیں کر سکے تھے۔ لہٰذا اسے منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کیا اور پھر جس بھونڈے انداز سے یہ کام کیا کہ پھانسی چڑھ جانے والی کی روح لاکھوں پاکستانیوں کے جسموں میں ہیول ہو گئی۔ آج بھی اُس کا ہیولہ پاکستانی سیاست دانوں کو ڈراتا رہتا ہے۔ گو اس ہیولے کی شدت بڑی حد تک زرادری نے کم کر دی ہے۔
اس کے بد ترین دشمن بھی اس کے عدالتی قتل کا نوحہ پڑھتے ہیں۔ اس کی بیٹی بی بی کے ساتھ جو ظلم کا سلوک ہوا، آفرین اس بیٹی کی وہ سب کچھ برداشت کر گئی۔ اسے مارنے والے بھی اس کے باپ کی طرح گمنام ہو گئے اور جبکہ باپ بیٹی آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں میوزک ٹیچرز نے حکومت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا
پاکستان میں جمہوریت کا حادثہ
پاکستان میں جمہوریت کی کہانی تکلیف دہ، دکھ بھری اور ناخوشگوار رہی ہے۔ پاکستان ٹوڑنے میں بھی فوج کا نمایاں کردار تھا اور ملک ٹوٹنے کے بعد اس بچے کچھے ملک میں جو نام نہاد جمہوریت تھی اسے بھی گود میں لے لیا۔ گود میں اٹھائے بچے کی طرح اس جمہوریت کو کھیلاتی رہی، جھولا تی رہی۔ نتیجہ نام کی جمہوریت دراصل آمریت ہی تھی۔ پرویز مشرف نے ایک بار کہا تھا، "ہمیں کنٹرولڈ جمہوریت سوٹ کرتی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے انکشاف کیا کہ کراچی میں گرفتار دہشت گردوں نے اپنے سرپرستوں کے نام بتا دیئے ہیں جن سے عوام کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔
تاریخی تسلسل اور اقتدار
ہر دور میں ہوتی رہی طاقت کی پرشتش
ہر دور یز یدوں کا طرف دار رہا ہے
ہر دور کے آقا غلام ابن غلام
ہر ایک عہد کی تاریخ چند سودائی
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








