ہم دو قدم آگے بڑھ کر آپ سے اختلاف کریں گے، مولانا فضل الرحمان کا حکومت کو پیغام
مولانا فضل الرحمان کا بیان
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جعلی مینڈیٹ کے سہارے ملک پر حکمرانی کی جا رہی ہے، عمران خان سے ذاتی دشمنی نہیں تھی، اسکی روش سے اختلاف کیا تھا لیکن آپ تو اس سے دو قدم آگے جارہے ہیں، ہم دو قدم آگے بڑھ کر آپ سے اختلاف کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ویوو نے بہترین فوٹوگرافی اور طاقتور کارکردگی کا حامل سمارٹ فون V40e 5G پاکستان میں متعارف کروا دیا
الیکشن کمیشن کا تنقید کا نشانہ
یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں الیکشن کمیشن کٹھ پتلی بن چکا ہے اور انتخابات کے نتائج تیار کرنے کی بجائے باہر سے آنے والے نتائج پر عمل کیا جا رہا ہے، ایک حلقے کے نتائج بھی الیکشن کمیشن نے خود تیار نہیں کیے اور ایسا کٹھ پتلی کمیشن دنیا میں کہیں اور نہیں ملتا۔ دو سال قبل ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کیا گیا تھا، مگر آج اسی جعلی مینڈیٹ کے سہارے ملک پر حکمرانی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا ماماں قدیر بلوچ کے انتقال پر اظہار تعزیت
جے یو آئی کے مقاصد
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اقتدار کی خواہش کے لیے نہیں بلکہ آئین اور قانون کی پاسداری کے لیے کام کر رہی ہے، موجودہ حکومت عوامی طاقت کے بجائے جوڑ توڑ کے ذریعے وجود میں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری عمران خان سے ذاتی دشمنی نہیں تھی، اسکی روش سے اختلاف کیا تھا لیکن آپ تو اس سے دو قدم آگے جارہے ہیں، ہم دو قدم آگے بڑھ کر آپ سے اختلاف کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر سندھ کا سانحۂ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ، چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط لکھنے کا اعلان
عوامی مفادات اور شفافیت
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی عوامی مفاد اور آئین کی بالادستی کے لیے کام کرے گی اور عوام کو درست رہنمائی فراہم کرے گی تاکہ ملک میں شفافیت اور عدلیہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، انہوں نے واضح کیا کہ اقتدار میں آنا مقصد نہیں بلکہ عوام کے حقوق اور جمہوری نظام کی مضبوطی ان کا اصل مقصد ہے۔
عوام کی حالت اور ملکی صورتحال
انہوں نے کہا کہ کب تک خوبصورت الفاظ اور دلکش جملوں سے عوام کو بہلایا جاتا رہے گا۔ ہمارے لوگ اور سرمایہ ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ ملکی سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے اور پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی بھی اس تاثر کو مضبوط کر رہی ہے کہ طاقتور قوتیں اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے قوانین بنا رہی ہیں۔








