ایرانی نوبل انعام یافتہ انسانی حقوق کی کارکن نرگس محمدی کو ساڑھے 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی
نرگس محمدی کی نئی قید کی سزا
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی نوبل انعام یافتہ اور معروف انسانی حقوق کارکن نرگس محمدی کو ایرانی عدالت نے مزید سات سال چھ ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔ ان کے وکیل مصطفیٰ نیلی کے مطابق شمال مشرقی شہر مشہد کی عدالت نے نرگس محمدی کو ’’اجتماع اور سازش‘‘ کے الزام میں چھ سال جبکہ ’’ریاست مخالف پروپیگنڈا‘‘ کے الزام میں ڈیڑھ سال قید کی سزا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا لاہور کے بعد کراچی و سندھ کے دورے کا اعلان
عدالتی تفصیلات اور پابندیاں
بی بی سی کے مطابق وکیل کا کہنا ہے کہ نرگس محمدی سے 14 دسمبر کے بعد پہلی مرتبہ بات ہو سکی، جس میں یہ بھی بتایا گیا کہ عدالت نے انہیں دو سال کے لیے ملک سے باہر جانے پر پابندی اور دو سال کی جلاوطنی مشرقی علاقے خسف میں بھگتنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں کارروائی، 8 خارجی جہنم واصل، 5 شدید زخمی
گرفتاری اور صحت کی صورت حال
نرگس محمدی کو دسمبر میں ایک یادگاری تقریب کے دوران ’’اشتعال انگیز بیانات‘‘ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے اہلِ خانہ کے مطابق گرفتاری کے دوران انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ نرگس فاؤنڈیشن کے مطابق حالیہ سماعت ایک ’’ڈھونگ‘‘ تھی اور نرگس محمدی نے 2 فروری سے بھوک ہڑتال بھی شروع کر رکھی ہے۔ وکیل نے بتایا کہ تین دن قبل ان کی خراب صحت کے باعث انہیں دوبارہ ہسپتال لے جایا گیا، مگر بعد ازاں واپس حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ماضی میں کسی جج کی ہائیکورٹ میں مستقل ٹرانسفر کی کوئی مثال نہیں، صرف عبوری ٹرانسفر ہو سکتی ہے، وکیل صلاح الدین
عدالت میں عدم تعاون
نرگس محمدی کے شوہر تقی رحمانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے عدالت میں کسی قسم کا دفاع نہیں کیا کیونکہ وہ ایرانی عدلیہ کو جائز نہیں سمجھتیں۔ ان کے مطابق نرگس محمدی نے نہ کوئی بیان دیا اور نہ کسی کاغذ پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی چینی کی پکار، مگر مچھوں نے جان بوجھ کر بحران پیدا کرایا، سوالوں کا جواب نہ ملا تو آئندہ انتخابات میں بڑے بریک تھرو ہوں گے
بچوں کی تشویش
ان کی بیٹی کیانا رحمانی نے ماں کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نرگس محمدی اب تک اپنی زندگی کے دس سال سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکی ہیں۔ نرگس فاؤنڈیشن کے مطابق حالیہ فیصلے کے بعد ان پر عائد مجموعی سزائیں 44 سال تک پہنچ گئی ہیں۔ وہ اس وقت بھی ریاست مخالف پروپیگنڈا اور قومی سلامتی کے خلاف سازش کے الزامات میں 13 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں، جنہیں وہ مسترد کرتی ہیں۔
عارضی رہائی اور دوبارہ گرفتاری
نرگس محمدی کو دسمبر 2024 میں طبی بنیادوں پر تہران کی ایوین جیل سے تین ہفتوں کے لیے عارضی رہائی دی گئی تھی، تاہم انہیں دوبارہ جیل واپس جانا تھا۔ ان کی تازہ گرفتاری ایک وکیل خسرو علی کردی کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شرکت کے دوران ہوئی، جن کی پراسرار موت پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے.








