دبئی ؛ رمضان 2026 میں صدقۂ فطر اور فدیہ کی نئی رقوم مقرر
رمضان المبارک 2026 کے لئے صدقۂ فطر اور فدیہ کی باقاعدہ تشہیر
دبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن)متحدہ عرب امارات کی فتویٰ کونسل نے رمضان المبارک 2026 کے لیے صدقۂ فطر، فدیہ اور دیگر شرعی ادائیگیوں کی سرکاری رقوم مقرر کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسانی جسم کو اندر سے کھانے والی فنگس کے پھیلاؤ میں اضافہ
اقتصادیات اور سیاحت کی شراکت
یہ فیصلے وزارتِ اقتصادیات اور سیاحت کے تعاون سے کی گئی فیلڈ پرائس سٹڈی کے بعد جاری کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اب سزاؤں کا اتوار بازار ختم ہونا چاہیے، نفرتوں سے پاکستان کا نقصان ہوگا، بیرسٹر گوہر
صدقۂ فطر کی مقدار اور قیمت
کونسل کے اعلامیے کے مطابق صدقۂ فطر فی شخص 2.5 کلو چاول یا اس کی نقد قیمت 25 درہم مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ: پاک بھارت میچ کے بائیکاٹ سے بھارتی براڈ کاسٹرز کو کتنا نقصان ہو گا؟
فدیہ کی رقوم اور اطلاق
روزہ نہ رکھ سکنے والے افراد کے لیے فدیہ ایک مسکین کو 3.25 کلو گندم یا 20 درہم فی دن کے حساب سے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ فدیہ کھانا کھلانے کی صورت میں بھی یہی رقم لاگو ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا خصوصی اجلاس، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی شرکت، اہم فیصلے
روزہ توڑنے کا فدیہ
اعلامیے میں بتایا گیا کہ رمضان کا روزہ جان بوجھ کر توڑنے کا فدیہ 1,200 درہم مقرر ہے جو 60 مستحق افراد میں تقسیم کیا جائے گا۔ حج یا عمرہ کے دوران کسی ممنوعہ عمل کے ارتکاب پر فدیہ 120 درہم ہوگا جو چھ مستحقین کو دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اہم اجلاس جاری
افطار کا کم از کم خرچ
کونسل نے ایک افطار کھانے کی کم از کم قیمت 20 درہم بھی مقرر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور پاکستان کے درمیان کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل مارکیٹس میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں: نیتھلی بیکر
صدیقۂ فطر کی واجب شمولیت
ترجمان فتویٰ کونسل کا کہنا ہے کہ ہر صاحبِ حیثیت مسلمان مرد اور عورت پر صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے۔ زکوٰۃ الفطر رمضان المبارک میں مستحقین کو دی جاتی ہے اور اس کی ادائیگی رمضان کے دوران عیدالفطر کی نماز سے پہلے تک کی جا سکتی ہے۔
عوام سے اپیل
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی ادائیگیاں زکوٰۃ فنڈ، امارات ریڈ کریسنٹ اور متحدہ عرب امارات میں تسلیم شدہ خیراتی اداروں کے ذریعے انجام دیں۔








