مولانا فضل الرحمان کی مرضی کے بغیر آئینی ترمیم آنا مشکل ہے: فواد چودھری
فواد چودھری کی تشویش
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی مرضی کے بغیر کوئی بھی آئینی ترمیم آنا بہت مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرپٹو سٹوری میں عثمان شامی نے علی ڈار کا نام لے کر تفصیل بیان کی ہے، اسحاق ڈار کے خلاف ضرور کچھ ہونے والا ہے ورنہ ان لوگوں کا نام لے کر ٹی وی پر خبر دینے کی اجازت نہیں تھی، شہباز گل
میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور بلاول بھٹو جمہوری ہوتے تو یہ مسائل نہ ہوتے۔ پیپلز پارٹی 17 سال سے سندھ میں اقتدار میں ہے، بلاول بھٹو کے پاس نمبر پورے ہوتے تو وہ کل ہی ترمیم لے آتے۔
یہ بھی پڑھیں: یوم آزادی صحافت: یونیسکو کے تعاون سے صحافیوں کے لیے فیلوشپ کا اعلان
نمبر پورے نہیں
فواد چودھری کا کہنا تھا کہ نمبر پورے نہیں ہیں اس لئے ابھی ترمیم نہیں لاسکے۔ پہلے بھی انہوں نے کوشش کی، اب بھی کررہے ہیں، اور ابھی بھی 5 سینیٹرز اور 7 ایم این ایز کم ہیں۔
الیکشن کمیشن کو خط
سابق وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ سپیکر ایاز صادق نے مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے دوبارہ الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے۔ اٹارنی جنرل کہہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں۔








