2025 کے دوران اصلاحات کا ریکارڈ بریک: 600 سے زائد اقدامات، توانائی سیکٹر سب سے آگے: پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 جاری
پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) 2025 کے دوران اصلاحات کا ریکارڈ بریک: 600 سے زائد اقدامات، توانائی سیکٹر سب سے آگے: پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 جاری کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا؟
اصلاحات کا جامع جائزہ
تفصیلات کے مطابق پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 جاری کر دی گئی ہے۔ یہ 2025 کے دوران حکومت پاکستان کی جانب سے کی گئی گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کی سب سے جامع اور منظم رپورٹ ہے۔ یہ رپورٹ 135 سے زائد وفاقی اداروں، جن میں 24 وفاقی وزارتیں اور 110 سے زیادہ منسلک محکمے، ریگولیٹرز اور اتھارٹیز شامل ہیں، میں تقریباً 660 اصلاحات کا تفصیلی ریکارڈ پیش کرتی ہے۔ یہ گزشتہ سال کی پہلی رپورٹ (جس میں صرف 120 اصلاحات تھیں) سے 5 گنا زیادہ ہے، جو اصلاحات کے نظام کی پختگی اور وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر دفاع خواجہ آصف نے باجوڑ دھماکے کے شہید اسسٹنٹ کمشنر سے متعلق اہم انکشاف کر دیا
اصلاحات کی نوعیت
رپورٹ کے مطابق، 2025 میں اصلاحات صرف عارضی یا شخصیت پر مبنی نہیں رہیں بلکہ نظاماتی، ڈیجیٹل، گورننس پر مبنی اور ادارہ جاتی نوعیت کی ہوگئی ہیں۔ اصلاحات کی دستاویزی کاری کو بھی ادارہ جاتی شکل دیدی گئی ہے، جس میں SDG میپنگ، کراس سیکٹرل موازنہ اور معیاری رپورٹنگ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی واقعات پر کیا افغانستان کے اندر کارروائی کی جائے گی؟ وزیر داخلہ محسن نقوی نے صحافی کے سوال کا جواب دیدیا
سیکٹر وار اصلاحات
اصلاحات مختلف سیکٹرز میں غیر یکساں مگر حکمت عملی کے تحت تقسیم تھیں، جو مالی استحکام، گورننس اور سروس ڈلیوری کی ترجیحات کو ظاہر کرتی ہیں:
- پاور اینڈ انرجی سیکٹر: 118 اصلاحات (سب سے زیادہ)
- قانون، انصاف اور قانونی امور: 96 اصلاحات
- ڈیجیٹل گورننس اور آئی ٹی: 74 اصلاحات
- معاشی انتظام اور فنانس: 68 اصلاحات
- خارجہ امور: 42 اصلاحات
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرہ کاشتکاروں کے لیے اہم اعلانات، ترقی کا سفر ہر گلی محلے کے کونے کونے تک پہنچے گا : وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خطاب
دیگر اہم سیکٹرز
دیگر اہم سیکٹرز میں شامل ہیں:
- انٹیریر اینڈ سیکیورٹی (39)
- ہیلتھ اینڈ سوشل پروٹیکشن (36)
- سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (34)
- کلائمیٹ اینڈ انوائرنمنٹ (29)
- ایجوکیشن اینڈ سکلز (27)
- ٹرانسپورٹ اینڈ ایوی ایشن (24)
- پرائیویٹائزیشن اینڈ SOEs (21)
- انفارمیشن اینڈ میڈیا (19)
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور روس کے درمیان دوستی کے رشتے مزید مضبوط ہوں گے : صدر مملکت
عوامی گورننس کی جانب منتقلی
عوام پر مبنی گورننس کی طرف واضح منتقلی دیکھی گئی، جہاں 16090 اصلاحات نے پبلک فیسنگ سروسز بہتر کیں، جیسے ڈیجیٹل سروس پورٹلز، شکایات کا ازالہ، موبائل ایپس، کیس ٹریکنگ اور ڈیجیٹل سرٹیفیکیشن۔
یہ بھی پڑھیں: افغان کھلاڑیوں کو ہار برداشت نہ ہوئی، پاکستانی پلیئرز کی خلاف بد زبانی، میچ ریفری کو شکایت کی تو۔۔۔ کیا نتیجہ نکلا؟ جانیے
انرجی سیکٹر کے اثرات
انرجی سیکٹر نے سب سے بڑا quantifiable اثر دکھایا:
- سرکلر ڈیبٹ ری سٹرکچرنگ میں 1.225 ٹریلین روپے۔
- IPPs کے ساتھ نئی ڈیلز سے لائف سائیکل سیونگز میں 4.2 ٹریلین روپے۔
- ٹیکس، تنازعات حل، پراسیسمنٹ اور ریگولیٹری پریڈکٹیبلٹی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سٹاک ایکسچینج نے تاریخ کی نئی بلند ترین حد کو چھو لیا
آگے کے چیلنجز
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی گورننس اصلاحات اب fragmented یا declaratory نہیں رہیں۔ آئندہ خطرہ execution fatigue، کوآرڈینیشن گیپس اور uneven کیپیسٹی ہے، جبکہ موقع ڈیجیٹل سسٹمز کو scale کرنے اور people-centric ڈلیوری میں ہے۔
نتیجہ
یہ رپورٹ پاکستان کی اصلاحاتی سفر کی ایک اہم دستاویز ہے جو ملک کی لچک اور ترقی کی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے۔








