اسلامی ممالک کے درمیان ویکسین کے مشترکہ اتحاد کی اشد ضرورت ہے : مصطفیٰ کمال
ویکسین کی تیاری کی اہمیت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ویکسین کی تیاری شعبہ صحت کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور پاکستان کے لیے ویکسین کی مقامی تیاری ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسلامی ممالک کے درمیان ویکسین کے مشترکہ اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے 9 مئی کے واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کردی
او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کا اجلاس
ان خیالات کا اظہار انہوں نے او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں ہر سال 60 لاکھ سے زائد اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ویکسین کی تیاری میں خود کفیل ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام پر دوستی کے ذریعے نوجوان نے 13 سالہ لڑکی کو اپنے جال میں پھنسالیا
ویکسین کی تیاری میں خود کفالت کا ہدف
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے 2030 تک ویکسین کی درآمد اور بیرونِ ملک انحصار ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، تاہم اس کے لئے 2030 کا انتظار کرنے کی بجائے فوری طور پر استعداد اور ویکسین تیاری کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں انفراسٹرکچر کی کمی نہیں، قومی ادارہ صحت جیسے مضبوط ادارے موجود ہیں، تاہم ویکسین کی تیاری یا خرید و فروخت کوئی منافع بخش کاروبار نہیں ہے اس مقصد کے لیے پاکستان کو اچھے اور قابلِ اعتماد شراکت داروں کی ضرورت ہے، جس کے تحت چین، سعودی عرب اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بے ہوش شخص کی جیب سے 2 بھارتی پاسپورٹ برآمد
سعودی عرب کی ویکسین تیار کرنے کی کوششیں
’’اے پی پی‘‘ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب گزشتہ 10 سال سے ویکسین کی تیاری کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ پاکستان نے اپنی پہلی ویکسین پالیسی تیار کر لی ہے۔ ایک کمپنی صرف ایک ویکسین تیار کر سکتی ہے جبکہ پاکستان کو مجموعی طور پر 13 ویکسین درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹری نیشن سیریز، سری لنکا نے پاکستان کو جیت کے لیے 185 رنز کا ہدف دے دیا
او آئی سی ویکسین الائنس کی تجویز
اس موقع پر انہوں نے او آئی سی ویکسین الائنس قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان ویکسین کے مشترکہ اتحاد کی اشد ضرورت ہے جس پر تمام رکن ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ او آئی سی ویکسین الائنس کے لئے شارٹ ٹرم، میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم بنیادوں پر آج سے کام کا آغاز کیا جائے گا تاکہ اسلامی ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ جو کہتے ہیں، اس پر عمل بھی کر کے دکھاتے ہیں، جے ڈی وینس
جنگ کے دوران ویکسین کی قلت کا مسئلہ
انہوں نے انکشاف کیا کہ جنگ کے دوران ویکسین کی قلت کے مسئلے پر یہ بات سامنے آئی کہ عالمی ادارہ ’’گاوی‘‘ بھارت سے ویکسین خرید کر پاکستان کو فراہم کر رہا تھا۔ حالیہ پاک، بھارت جنگ کے دوران ویکسین کی قلت کے تجربے کے بعد حکومت نے مستقل بنیادوں پر منصوبہ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔
قومی سلامتی اور صحت کی اہمیت
وفاقی وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ صحت مند ماحول، صحت مند قوم اور معاشی استحکام کا براہِ راست تعلق قومی سلامتی سے ہے۔








