سزا ملنی ہے تو سب کو برابر ملنی چاہیے: خواجہ سعد رفیق
خواجہ سعد رفیق کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سزا ملنی ہے تو پھر سب کو برابر ملنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ارسا نے سندھ کو زیادہ پانی دینے کے پنجاب حکومت کے دعوے کو مسترد کردیا
فیسٹیول میں گفتگو
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور آرٹس کونسل الحمراء میں 3 روزہ فیسٹیول کے آخری روز پینل سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہم جب 4 کروڑ تھے تب بھی دائروں میں سفر کر رہے تھے، آج 25 کروڑ ہیں تب بھی دائروں میں سفر کر رہے ہیں، یہ دائروں کا سفر ختم ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سمہ سٹہ، چھوٹا، غیر معروف اور تھکا ماندہ ریلوے جنکشن ہے، اب تو شاید اسے کوئی جانتا بھی نہ ہو، تقسیمِ ہند سے قبل اس پر خوب رونق ہوتی تھی۔
قوم بننے کی کوششیں
انہوں نے کہا کہ ہم ہجوم ہیں قوم نہیں ہیں، بدقسمتی سے ہمیں قوم بننے ہی نہیں دیا گیا، بدقسمتی سے ہم قوم بننے لگتے ہیں تو کوئی واقعہ ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی کی مشاورت کے بغیر خیبر پختونخوا کا بجٹ منظور نہیں ہوگا: بیرسٹر سیف
لیڈر شپ کی ضرورت
ان کا کہنا تھا کہ آپ کو لیڈر چاہیے، کوئی جاگیردار، ارب پتی یا سلیبرٹی، سیاسی جدوجہد کرنے والوں کی تو ضمانت ضبط ہو جاتی ہے، ہم جذباتی ہو جاتے ہیں، معذرت کے ساتھ ہم 70 میں بھی جذباتی ہی ہوئے تھے اور آپ نے جاگیردار کو ٹھپا لگا کر لیڈر بنا دیا تھا۔
ہم سب کا مشترکہ سفر
خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ سزا ملنی ہے تو پھر سب کو برابر ملنی چاہیے، اگر ہمیں دائرے کے سفر سے نکلنا ہے تو سب کو مل کر سوچنا ہوگا۔








